اسلام آباد میں 12 ستمبر 2026 کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ملک کی پوری عدلیہ اس مقصد پر متحد ہے کہ ججز اپنی ذمہ داریاں کسی بیرونی دباؤ کے بغیر ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی ضابطہ اخلاق میں تبدیلیاں اسی مقصد کے تحت کی گئی ہیں تاکہ ججوں کے ادارہ جاتی تحفظ کو بہتر بنایا جائے اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد مضبوط ہو۔
چیف جسٹس نے ضلعی عدالتوں کو نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام شہری کا عدلیہ سے پہلا اور سب سے زیادہ براہ راست رابطہ یہی عدالتیں ہوتی ہیں، اس لیے ان کے ججز کو بااختیار بنانا اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق عدالتی افسران متعدد عملی مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور اعلیٰ عدالتوں اور ضلعی عدلیہ کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ضلعی عدلیہ کی استعداد بڑھانے کے لیے مختلف علاقوں میں شمسی توانائی، انٹرنیٹ، صاف پانی اور ای لائبریریوں جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 18 اضلاع میں شمسی توانائی، پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی اضلاع کے لیے بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے عدالتی افسران کے لیے ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق رواں سال عدلیہ میں بہتری کے لیے 3 ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس رقم کا موازنہ Access to Justice Programme کے تحت گزشتہ دو دہائیوں میں جاری ہونے والے تقریباً 90 کروڑ روپے سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد صرف انفراسٹرکچر بہتر بنانا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کے معیار اور رفتار کو بھی بہتر کرنا ہے۔
انہوں نے تمام ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔ نوجوان ججز سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انصاف کی بہترین ممکنہ فراہمی کو اپنی پیشہ ورانہ ترجیح بنائیں۔ چیف جسٹس نے ان ججز کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں قربان کیں اور کہا کہ قانون کی حکمرانی موجودہ وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔




