سندھ کے بلدیاتی نظام میں مجوزہ تبدیلیوں پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلاف نمایاں ہو گیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے نئے بلدیاتی قانون اور متعلقہ ترامیم کا جائزہ لیا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے متعدد نکات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ بندوبست سے منتخب میئرز اور مقامی نمائندوں کے اختیارات محدود ہونے کا خدشہ ہے۔

سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے اجلاس کے بعد بتایا کہ حکومت نے مقامی نمائندوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد کے عبوری دور کے لیے ایک طریقہ کار تجویز کیا ہے۔ ان کے مطابق بلدیاتی انتخابات سے 120 دن قبل الیکشن کمیشن سے باضابطہ رابطہ کیا جائے گا تاکہ حلقہ بندیوں اور دیگر انتخابی تیاریوں کے لیے وقت میسر ہو۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد انتظامی امور چلانے کے لیے عبوری انتظام کیا جا سکتا ہے۔

اپوزیشن نے اس تجویز پر شدید تحفظات ظاہر کیے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن طحہٰ احمد نے الزام عائد کیا کہ حکومت اختیارات منتخب مقامی اداروں کو منتقل کرنے کے بجائے صوبائی سطح پر رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 140-A کے تحت مقامی حکومتوں کو مؤثر اختیارات دینے کا مطالبہ کیا اور میئر کے دائرہ اختیار میں ماسٹر پلان، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر بورڈ جیسے شعبوں کے کردار پر سوال اٹھایا۔

ایم کیو ایم کے افتخار عالم نے میئرز یا دیگر شخصیات کو عبوری ایڈمنسٹریٹر بنانے کے تصور پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایسا انتظام انتخابات کی شفافیت کے بارے میں سوالات پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً اگر عبوری مدت کی واضح حد متعین نہ ہو۔ تحریک انصاف کے شبیر قریشی نے بھی بعض تجاویز مسترد کرتے ہوئے مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور یونین کونسلوں کے کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی قانون پہلے سے موجود ہے، لیکن مسئلہ اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات 120 دن کے اندر کرانے اور غیر منتخب ایڈمنسٹریٹرز کے تقرر سے گریز کی تجاویز دی تھیں، جنہیں قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متنازع ترامیم منظور کی گئیں تو قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

اس مرحلے پر یہ معاملات پارلیمانی مشاورت کا حصہ ہیں اور حتمی قانون سازی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل، حلقہ بندیوں اور عبوری انتظام کو واضح قانونی ڈھانچہ دینا ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ کسی بھی نئے نظام میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کے آئینی اختیارات کم نہ ہوں اور مقامی حکومتیں صوبائی محکموں کے تابع محض رسمی ادارے بن کر نہ رہ جائیں۔