چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے سول سروسز اکیڈمی کے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام میں شامل زیر تربیت افسران سے ملاقات کی اور آئینی حکمرانی، پارلیمانی جمہوریت اور ریاستی اداروں کے باہمی کردار پر گفتگو کی۔ اردوپوائنٹ کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات سپریم کورٹ میں ہوئی جہاں مستقبل کے سرکاری افسران کو عدالتی نظام اور انصاف تک رسائی کے انتظامی پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔

گفتگو میں آئین کے تحت اختیارات کی تقسیم اور مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی الگ ذمہ داریوں پر زور دیا گیا۔ اس اصول کا مقصد اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنا نہیں بلکہ ہر ادارے کی حد، جواب دہی اور تعاون کی بنیاد واضح کرنا ہے۔ رپورٹ نے کسی زیر سماعت مقدمے، سیاسی جماعت یا مخصوص حکومتی فیصلے پر چیف جسٹس کی رائے بیان نہیں کی، اس لیے ملاقات کو کسی مقدمے کے نتیجے یا سیاسی موقف سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

زیر تربیت افسران کو ملک کے مختلف عدالتی درجات اور ان کے دائرۂ اختیار سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ ضلعی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں اور سپریم کورٹ تک مقدمات کی نوعیت اور آئینی حدود مختلف ہوتی ہیں۔ عام شہری کے لیے زیادہ تر روزمرہ تنازعات کا پہلا رابطہ ضلعی عدلیہ ہوتی ہے، اسی لیے بنیادی سطح پر سہولت، ریکارڈ، پانی، بجلی، ٹیکنالوجی اور قانونی مدد کی دستیابی انصاف کی مجموعی رفتار پر اثر ڈالتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی اور انصاف تک رسائی کے ترقیاتی فنڈ سے متعلق اقدامات کا ذکر کیا۔ اس فنڈ کے ذریعے عدالتی عمارتوں میں بجلی، ای لائبریریوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی بہتری جیسے منصوبے زیر غور یا عمل میں آ سکتے ہیں۔ خبر میں ہر منصوبے کی لاگت، ضلع وار فہرست یا تکمیل کی تاریخ موجود نہیں، اس لیے ان سہولتوں کو تمام عدالتوں میں فوری طور پر مکمل سمجھنا درست نہیں۔

2026 اور 2027 کے لیے صنفی حساس انصاف کے نقطۂ نظر کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس سے مراد عدالتی اور انتظامی نظام میں خواتین اور مختلف کمزور گروہوں کو پیش آنے والی عملی رکاوٹوں کو شناخت کرنا اور خدمات کو ان کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ اس پالیسی کے مخصوص اہداف، پیمانے اور رپورٹنگ طریقہ آئندہ باضابطہ دستاویزات سے واضح ہوگا۔

اردو ہیڈ لائنز کے مطابق یہ ملاقات سول سروس کی تربیت اور عدالتی اداروں کے درمیان فہم بڑھانے کی سرگرمی تھی۔ اس کا فوری اثر کسی قانون، مقدمے یا شہری کے قانونی حق میں تبدیلی نہیں، مگر مستقبل کے افسران کے لیے آئینی حدود، ادارہ جاتی رابطے اور عوامی خدمت کے تقاضوں کو سمجھنا انتظامی فیصلوں میں اہم ہو سکتا ہے۔ عدالت یا اکیڈمی کی جانب سے تفصیلی پروگرام یا عملی نتائج جاری ہونے پر اسی بنیاد پر مادی اپ ڈیٹ کی جائے گی۔