جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں ’متحدہ اپوزیشن‘ بنانے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ ڈان اور ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی الگ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔
ڈان کے مطابق ٹی ٹی اے پی کے ترجمان نے کہا کہ ملاقات میں موجودہ سیاسی صورت حال، پارلیمانی امور، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بات ہوئی۔ شرکا نے حکومت کے اپوزیشن سے برتاؤ پر اپنے تحفظات بیان کیے اور رابطے مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ اپوزیشن اتحاد کا بیان کردہ موقف ہے؛ حکومت کا تفصیلی جواب موجودہ رپورٹس میں شامل نہیں تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ اپوزیشن جماعتوں کی پہلی نشست تھی اور مشترکہ اپوزیشن کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق جماعتیں اپنے اندر مزید مشاورت کریں گی، رابطے بڑھائے جائیں گے اور آئندہ اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس سے واضح ہے کہ اصولی اتفاق ہو چکا ہے، مگر مکمل تنظیمی ڈھانچہ، قیادت، ضابطہ اور مشترکہ پروگرام ابھی حتمی نہیں۔
ایکسپریس اردو نے اجلاس میں سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر اور متعدد پارلیمانی رہنماؤں کی شرکت اور سڑکوں پر مشترکہ سیاسی سرگرمی کے عندیے کی تفصیل دی۔ مختلف رہنماؤں نے امن و امان، عدالتی احکامات، نئے صوبوں اور حکومتی پالیسی پر سخت سیاسی بیانات بھی دیے۔ ان دعوؤں کو متعلقہ اپوزیشن رہنماؤں سے منسوب کیا جا رہا ہے اور انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں کہا جا رہا۔
مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس کے امکان پر مزید بات کرنے کا ذکر کیا، جبکہ ملاقات کے بعد جاری موقف میں مزید اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں اور مشترکہ پارلیمانی حکمت عملی کو ترجیح دی گئی۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ کن اضافی جماعتوں نے باضابطہ شمولیت قبول کی ہے یا کوئی مشترکہ انتخابی اتحاد بھی بنایا جائے گا۔ پارلیمانی تعاون اور انتخابی اتحاد ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔
اردو ہیڈ لائنز اس خبر میں اصولی اتفاق، معلوم شرکا، مزید مشاورت اور مشترکہ پارلیمانی حکمت عملی کے اعلان کو شامل کر رہا ہے۔ اتحاد کا تحریری منشور، تنظیمی عہدے، اگلی نشست، احتجاجی شیڈول یا نئی جماعتوں کی باقاعدہ شمولیت سامنے آنے پر الگ تصدیق درکار ہوگی۔ سیاسی الزامات اور متنازع بیانات کو ہمیشہ ان کے بولنے والے سے منسوب رکھا جائے گا۔




