قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے وقفہ سوالات کے دوران متعلقہ وزرا کی غیرحاضری اور سوالات کے جواب جمع کرانے میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت اٹھا جب رکن قومی اسمبلی چوہدری الیاس نے بتایا کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ سے متعلق ان کا سوال تقریباً پانچ ماہ سے جواب کا منتظر ہے۔

اسپیکر نے پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے پوچھا کہ سوال چھبیسویں اجلاس میں جمع ہوا تھا مگر انتیسویں اجلاس تک اس کا جواب کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ وزرا کی غیرموجودگی اور تاخیر پر استحقاق کی تحریک لانے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ یہ تنبیہ تھی؛ رپورٹ میں کسی وزیر کے خلاف حتمی استحقاق کارروائی منظور ہونے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

پارلیمانی امور کے وزیر نے ایوان کو بتایا کہ بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کا قلمدان رکھنے والے رانا ثنااللہ نے نہ اپنی غیرحاضری کی اطلاع دی اور نہ زیر التوا جواب فراہم کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صورت حال کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے معذرت کی اور متعلقہ وزرا کی دستیابی یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان بیانات کو ایوان میں دیے گئے موقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اسپیکر نے کارروائی پندرہ منٹ کے لیے معطل کی اور پارلیمانی امور کے وزیر کو ہدایت دی کہ وزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری، جوائنٹ سیکریٹری اور متعلقہ سیکشن افسر کو ایوان میں بلایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی سوالات کے بروقت اور مکمل جواب دینا متعلقہ وزارتوں کی ذمہ داری ہے اور اس کام کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔

وقفہ سوالات حکومت سے تحریری اور زبانی جواب طلب کرنے کا بنیادی پارلیمانی طریقہ ہے۔ جواب میں تاخیر یا متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی سے اراکین کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، لیکن کسی ایک اجلاس کی صورت حال سے تمام وزارتوں کی مجموعی کارکردگی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ خبر اسی مخصوص کارروائی اور اسپیکر کی ہدایات تک محدود ہے۔

ڈان کے مطابق پندرہ منٹ بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وزیر اعظم کی آمد اور دو اہم بلوں کی منظوری سے پہلے کابینہ ارکان کی مناسب تعداد ایوان میں موجود تھی۔ اردو ہیڈ لائنز زیر التوا سوال کے اصل تحریری جواب، کسی استحقاق تحریک یا وزارت کی باضابطہ وضاحت سامنے آنے پر الگ تصدیق کے بعد رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔