وفاقی اردو یونیورسٹی میں سابق طلبہ کی پہلی باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی جس میں المنائی ایسوسی ایشن کے قیام اور مختلف کیمپسوں میں اس کی شاخیں بنانے کا اعلان کیا گیا۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق تقریب میں جامعہ کے سابق طلبہ، اساتذہ اور انتظامی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اعلان تنظیمی آغاز ہے؛ اس مرحلے پر ایسوسی ایشن کے مکمل ضابطے، رکنیت فیس یا سالانہ بجٹ کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے سابق طلبہ کو جامعہ کا سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی، کردار اور صلاحیت ادارے کی پہچان مضبوط کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منظم رابطے سے موجودہ طلبہ کو پیشہ ورانہ رہنمائی، تجربات سے سیکھنے اور مختلف شعبوں میں مواقع تک رسائی مل سکتی ہے۔ یہ اہداف اعلان کردہ سمت ہیں، مکمل کیے گئے نتائج نہیں۔

تقریب میں مرکزی المنائی ایسوسی ایشن کے ساتھ کیمپس سطح کی تنظیموں کے عہدیداروں کا بھی تعارف کرایا گیا۔ رپورٹ میں مختلف ذمہ داریاں اور نام بیان کیے گئے، مگر ہر شاخ کے کام کا سالانہ منصوبہ یا انتخابی طریقہ مکمل طور پر عام نہیں کیا گیا۔ اس لیے خبر میں عہدیداروں کی فہرست دہرانے کے بجائے تنظیمی ڈھانچے اور اس کے بیان کردہ مقصد پر توجہ رکھی گئی ہے۔

جامعات میں سابق طلبہ کے منظم نیٹ ورک عموماً سرپرستی، کیریئر مشاورت، انٹرن شپ رابطوں اور تحقیقی یا سماجی منصوبوں میں مدد دے سکتے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کی نئی ایسوسی ایشن نے بھی موجودہ طلبہ کی رہنمائی اور جامعہ کے ساتھ دیرپا تعلق کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ تاہم کسی مخصوص اسکالرشپ، ملازمت پروگرام یا مالی عطیے کا باضابطہ اعلان موجودہ رپورٹ میں نہیں کیا گیا۔

اس اقدام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ ایسوسی ایشن باقاعدہ رکنیت، شفاف فیصلہ سازی اور تمام کیمپسوں کی نمائندگی کے لیے کیا طریقہ اپناتی ہے۔ سابق طلبہ کے مختلف تعلیمی ادوار اور شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا مفید ہو سکتا ہے، مگر اس کے عملی نتائج آئندہ سرگرمیوں، نشستوں اور طلبہ کو دی جانے والی قابل پیمائش معاونت سے سامنے آئیں گے۔

اردو ہیڈ لائنز اس خبر کو پہلی المنائی تقریب اور ایسوسی ایشن کے قیام کے اعلان تک محدود رکھ رہا ہے۔ جامعہ یا نئی تنظیم جب ضابطہ، رکنیت کا طریقہ، پروگراموں کا کیلنڈر یا طلبہ کے لیے مخصوص معاونت جاری کرے گی تو ان تفصیلات کی الگ تصدیق کی جائے گی۔ فی الحال یہ سابق طلبہ اور جامعہ کے تعلق کو ادارہ جاتی شکل دینے کا ابتدائی قدم ہے۔