پاکستان اور جمہوریہ کانگو نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق کانگو کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلَمبو جولز کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورت حال اور دونوں ملکوں کے دفاعی روابط کو مضبوط بنانے کے امکانات زیر بحث آئے۔ دونوں جانب نے دیرینہ دوستانہ تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا اور تعاون کے موجودہ دائرے کو مزید وسیع کرنے کے ارادے کا اظہار کیا۔

دستخط شدہ یادداشت کا مقصد دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو ایک باقاعدہ فریم ورک دینا بتایا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں تربیت، سازوسامان، ٹیکنالوجی یا عمل درآمد کے مخصوص منصوبوں اور مالی حجم کی تفصیل جاری نہیں ہوئی۔ اس لیے معاہدے کو انفرادی خریداری یا کسی خاص آپریشن کے اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

کانگو کے چیف آف ڈیفنس نے پاکستان کے نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور سربراہ فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی الگ ملاقاتیں کیں۔ رپورٹ کے مطابق ان ملاقاتوں میں پیشہ ورانہ روابط، باہمی تعاون اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔

وفد کو جی ایچ کیو پہنچنے پر تینوں مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ کانگو کے دفاعی سربراہ نے پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل استعداد اور مقامی دفاعی پیداوار میں پیش رفت کو سراہا۔ یہ نکات میزبان ادارے کے جاری کردہ سرکاری بیان کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔

مفاہمتی یادداشت کے حقیقی اثرات اس وقت واضح ہوں گے جب دونوں ملک مشترکہ پروگرام، تربیتی تبادلے یا دیگر عملی اقدامات کا اعلان کریں گے۔ اردو ہیڈ لائنز دستیاب بیان سے آگے کسی دفاعی سودے، تعیناتی یا مالی ذمہ داری کا اندازہ نہیں لگا رہا۔ آئندہ باضابطہ پیش رفت سامنے آنے پر اسی ریکارڈ کو معتبر حوالوں کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔