پاکستان اور ملائیشیا نے سزا یافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کے مطابق دستخط کی تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی، جہاں ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتو سری سیف الدین نسوتیون اسماعیل اور پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی تقریب میں موجود تھے۔
معاہدے کا بنیادی تعلق ایسے افراد کی منتقلی سے ہے جو دوسرے ملک میں سزا کاٹ رہے ہوں۔ رپورٹ میں طریقۂ کار، اہلیت، درخواست کی شرائط یا نفاذ کی تاریخ کی مکمل قانونی تفصیل شامل نہیں، اس لیے اسے ہر قیدی کی فوری واپسی کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔ عملی منتقلی دونوں ملکوں کے متعلقہ قوانین، منظوریوں اور ہر مقدمے کے الگ جائزے سے مشروط ہوسکتی ہے۔
دستخط سے پہلے وزیراعظم نے ملائیشین وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے قریبی و برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ گفتگو میں بالخصوص سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ علاقائی صورت حال بھی زیر بحث آئی اور پاکستان نے امن کی کوششوں کے لیے ملائیشیا کی حمایت کو سراہا۔
ملائیشین وزیر داخلہ نے وزیراعظم انور ابراہیم کی نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دوطرفہ روابط کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
دورے کے دوران ملائیشین وزیر داخلہ نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں جانب نے علاقائی سکیورٹی، باہمی دلچسپی کے امور اور دفاعی روابط بڑھانے پر بات کی۔ یہ ملاقات قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے سے الگ مگر اسی سرکاری دورے کا حصہ تھی۔
معاہدے کے بعد اہم اگلا مرحلہ اس کے عملی قواعد، درخواست کے راستے اور اہل قیدیوں کے بارے میں سرکاری رہنمائی کا اجرا ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی مخصوص قیدی کی منتقلی یا تعداد کے بارے میں اس وقت تک دعویٰ نہیں کر رہا جب تک متعلقہ وزارتیں باضابطہ تفصیل جاری نہ کریں۔ نئی معلومات آنے پر اسی سفارتی پیش رفت کو واضح حوالوں کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




