سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات نے الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹمز ریگولیشن بل 2025 کی منظوری کی سفارش کی ہے اور بیچلر آف ڈینٹل سرجری پروگرام کو چار سالہ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے کی، جبکہ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، کمیٹی ارکان اور وزارت کے حکام شریک ہوئے۔
ای سگریٹ اور متعلقہ نکوٹین نظاموں کے بل کو دسمبر 2025 میں سینیٹر سرمد علی نے نجی رکن کے طور پر پیش کیا تھا اور بعد میں کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ ایسے بل کے لیے سرکاری رضامندی، متعلقہ وزارت کا جائزہ، شراکت داروں سے مشاورت اور مالی اثرات کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ متعلقہ مشاورت ہو چکی ہے اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے پاس نکوٹین کی سطح جانچنے کی لیبارٹری صلاحیت موجود ہے۔
ارکان نے تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بل کو متفقہ طور پر سفارش کے ساتھ آگے بڑھایا۔ کمیٹی کی منظوری پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مکمل قانون سازی کے برابر نہیں؛ مجوزہ قانون کو باقی آئینی و پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ موجودہ رپورٹ میں مصنوعات پر حتمی ٹیکس، فروخت کی عمر، پیکنگ یا نفاذ کی تاریخ کی مکمل شقیں بیان نہیں کی گئیں، اس لیے ان موضوعات پر قیاس شامل نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے بی ڈی ایس پروگرام کو چار سے پانچ سال کرنے کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا۔ حکام نے بین الاقوامی معیار اور بعض ممالک میں ڈگری کی مساوات کے لیے پانچ سالہ تعلیم کا حوالہ دیا، جبکہ سینیٹر روبینہ خالد نے مدت بڑھانے کے بجائے نصاب، معیار اور کلینیکل تربیت بہتر بنانے پر زور دیا۔ نجی طبی و دندان ساز اداروں کے نمائندوں نے کہا کہ انہیں مجوزہ تبدیلی سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
بحث کے بعد کمیٹی نے وزارت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو چار سالہ پروگرام برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی طلبہ، والدین اور متعلقہ اداروں سے جامع مشاورت، نصاب کی بہتری اور کلینیکل تربیت مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔ اس فیصلے کو مستقل طور پر ہر آئندہ اصلاح کی ممانعت نہیں سمجھا جا سکتا؛ موجودہ ہدایت دستیاب مشاورتی عمل اور اجلاس کے فیصلے سے متعلق ہے۔
اجلاس میں فارمولا دودھ کے اشتہارات پر سابق ہدایات کی تعمیل کا جائزہ بھی لیا گیا، مگر اس خبر کا مرکزی موضوع ای سگریٹ بل اور بی ڈی ایس کی مدت ہے۔ اردو ہیڈ لائنز بل کے پارلیمانی مراحل، حتمی متن اور پی ایم ڈی سی یا وزارت صحت کی آئندہ باضابطہ ہدایات سامنے آنے پر الگ تصدیق کے ساتھ رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔




