پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں 24 ستمبر تک توسیع کردی ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اس بارے میں نیا نوٹس ٹو ایئر مین، یعنی نوٹم، جاری کیا۔ سابقہ پابندی 23 اگست کو ختم ہونے والی تھی، اس لیے نئی اطلاع نے اس کے تسلسل کی مدت واضح کردی ہے۔
نوٹم کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود بھارتی رجسٹریشن رکھنے والے طیاروں، بھارتی ایئرلائنوں یا آپریٹرز کے زیر استعمال یا لیز پر لیے گئے طیاروں اور بھارتی فوجی پروازوں کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔ نئی مدت 23 اگست کو صبح 10 بج کر 15 منٹ سے شروع ہو کر 24 ستمبر کو صبح 4 بج کر 59 منٹ تک بتائی گئی ہے۔ اوقات نوٹم کی رپورٹ کردہ تفصیل ہیں اور فضائی آپریٹرز کو اصل نوٹم دیکھنا چاہیے۔
پاکستان اور بھارت نے اپریل 2025 کے آخر میں ایک دوسرے کی ایئرلائنوں کے لیے فضائی حدود بند کی تھیں اور اس کے بعد پاکستان پابندی میں متعدد مرتبہ توسیع کر چکا ہے۔ موجودہ خبر نئی توسیع سے متعلق ہے؛ اس میں کسی اضافی ملک، عام بین الاقوامی پرواز یا پاکستان سے گزرنے والے تمام طیاروں پر پابندی کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
فضائی حدود کی ایسی پابندیاں متاثرہ ایئرلائنوں کے راستوں، پرواز کے وقت اور آپریشنل منصوبہ بندی پر اثر ڈال سکتی ہیں، لیکن موجودہ رپورٹ نے مخصوص پروازوں کی منسوخی، اضافی لاگت یا مسافروں کی تعداد کا تخمینہ نہیں دیا۔ اس لیے ان اثرات کو طے شدہ اعداد میں بیان کرنا مناسب نہیں۔ مسافروں کو اپنی ایئرلائن کے تازہ شیڈول اور ہوائی اڈے کی اطلاع دیکھنی چاہیے۔
اسی رپورٹ میں امریکی قونصل جنرل کراچی کے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کے دورے اور پاکستان و امریکا کے درمیان براہ راست فضائی رابطے پر گفتگو کا ذکر بھی تھا۔ وہ الگ سفارتی و ہوابازی موضوع ہے اور بھارتی طیاروں پر نوٹم کی توسیع کا خودکار نتیجہ نہیں۔ دونوں واقعات کو باہم ملانا درست نہیں ہوگا۔
اردو ہیڈ لائنز اس خبر میں نوٹم کی اطلاع، متاثرہ طیاروں کی بیان کردہ اقسام اور نافذ مدت کو شامل کر رہا ہے۔ پابندی کے خاتمے، مزید توسیع، کسی استثنا یا دوطرفہ فضائی راستوں میں تبدیلی کے لیے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی یا متعلقہ ایوی ایشن ادارے کی نئی باضابطہ اطلاع درکار ہوگی، جس کے بعد رپورٹ اپ ڈیٹ کی جا سکتی ہے۔




