اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالتی سال 2026-27 کا آغاز پیر کو ایک تقریب کے ساتھ ہوا جس میں چیف جسٹس پاکستان نے تیز تر انصاف، بہتر کیس مینجمنٹ، عوامی سہولت، شفافیت اور قابلِ پیمائش ادارہ جاتی اصلاحات کو آئندہ عدالتی سال کی ترجیحات قرار دیا۔ تقریب سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور قانونی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق چیف جسٹس نے بتایا کہ عدالتی اصلاحاتی پروگرام کو پانچ بنیادی ستونوں کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے: ٹیکنالوجی سے معاون سروس ڈیلیوری، رسائی اور شفافیت، قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک کی مضبوطی، قومی و بین الاقوامی وسائل کا مؤثر استعمال اور انصاف کے شعبے کے اداروں کی فعالیت میں بہتری۔ ان کے مطابق آٹھ عملی شعبوں میں مجموعی طور پر 86 اصلاحاتی اقدامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 65 مکمل ہو چکے ہیں، آٹھ مقررہ رفتار سے جاری ہیں اور 13 کو مزید توجہ درکار ہے۔
چیف جسٹس نے عدالتی نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی کے ضمن میں زیر التوا اور نئی مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن و بارکوڈنگ، احکامات اور فیصلوں کی الیکٹرانک ترسیل، ای آفس، پیپر لیس عدالتی نظام اور ای فائلنگ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ صرف ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک مربوط اور باہم منسلک ڈیجیٹل جسٹس آرکیٹیکچر تشکیل دینا ہو گا، جس کے لیے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور سائبر سکیورٹی ضروری ہیں۔
ایک قومی معیاری ای فائلنگ فریم ورک پر بھی کام جاری ہے تاکہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدلیہ میں فائلنگ کے طریقہ کار میں زیادہ یکسانیت پیدا ہو۔ عوامی رسائی کے لیے پبلک فیسلیٹیشن سینٹرز، ڈیجیٹل رابطہ نظام اور فیڈ بیک کے ڈھانچوں کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ لاہور رجسٹری میں پبلک فیسلیٹیشن سینٹر نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اصلاحات کا حتمی معیار یہ ہونا چاہیے کہ شہریوں کو بروقت، منصفانہ اور باوقار طریقے سے انصاف ملے اور عدلیہ پر عوامی اعتماد مضبوط ہو۔




