اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اڈیالہ جیل میں قید تین افراد کی اپیلوں پر اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ درخواست گزاروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کی مرضی کے نجی اسپتال میں علاج کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ قیدیوں کا مؤقف ہے کہ انہیں بھی وہی طبی اور بعض مواصلاتی سہولتیں دی جائیں جو سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو فراہم کی گئی ہیں۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال اٹھایا کہ قیدیوں کا علاج لازماً نجی اسپتال ہی میں کیوں ہونا چاہیے اور پولی کلینک یا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، جیسے سرکاری اسپتال اس مقصد کے لیے کیوں کافی نہیں ہو سکتے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے جیل مینول کے اطلاق اور اس کی عملی حیثیت پر بھی سوال کیا۔
عدالت کے سامنے اپیلیں محمد الیاس خان، محمد اسماعیل حسین اور اویس الطاف کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے 31 اگست کو ان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ کسی قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال میں منتقل کیے جانے کا خودکار قانونی حق حاصل نہیں۔ درخواست گزاروں نے وفاقی آئینی عدالت سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
اپیل کنندگان نے آئین کے آرٹیکل 25، یعنی قانون کے سامنے مساوات، کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بھی مساوی طبی سہولتیں ملنی چاہییں۔ ان کی درخواست میں سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے تحت عمران خان کی طبی منتقلی سے متعلق ہدایات جاری ہوئی تھیں۔ بعد میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لے جایا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے بیرون ملک موجود افراد سے واٹس ایپ رابطے جیسی سہولت کی بھی استدعا کی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فی الحال ان مطالبات کو منظور یا مسترد نہیں کیا بلکہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ قانونی تشریح کا متقاضی ہے۔ سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔ اس مرحلے پر عدالت کا اقدام صرف فریقین سے جواب طلب کرنے اور قانونی نکات سننے تک محدود ہے، اس لیے درخواست گزاروں کے دعووں یا مطلوبہ سہولتوں کے حق میں کوئی حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔




