تاشقند: جنوبی افریقہ کے تیراک پیٹر کوئٹزے نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ہونے والے ورلڈ ایکواٹکس ورلڈ کپ مقابلے میں مردوں کی 50 میٹر بیک اسٹروک شارٹ کورس ریس کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ جمعہ کو منعقدہ مقابلے میں 22 سالہ تیراک نے فاصلہ 22.09 سیکنڈ میں مکمل کیا اور اس طرح 2022 سے قائم عالمی ریکارڈ کو بہتر بنایا۔
رائٹرز کی دس اکتوبر کو شائع رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے روس کے کلیمنت کولی سنکوف نے کازان میں 2022 کے دوران 22.11 سیکنڈ کا وقت درج کیا تھا۔ کوئٹزے نے اس ریکارڈ میں دو سوویں سیکنڈ کی بہتری پیدا کی، جو انتہائی مختصر فاصلوں کی بین الاقوامی تیراکی میں نمایاں کارنامہ ہے۔ شارٹ کورس مقابلے 25 میٹر طویل پول میں ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ریکارڈ 50 میٹر طویل پول میں ہونے والے لانگ کورس مقابلوں سے الگ شمار کیے جاتے ہیں۔
کوئٹزے سو میٹر بیک اسٹروک کے عالمی چیمپیئن بھی ہیں۔ تازہ عالمی ریکارڈ ان کے کیریئر کا پہلا عالمی ریکارڈ ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے گزشتہ جولائی میں گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کے دوران سو میٹر کے عالمی ریکارڈ کے قریب پہنچ کر اپنی رفتار کا اشارہ دیا تھا۔ اس بار 50 میٹر کی ریس میں انہوں نے اعشاری سیکنڈ کے فرق سے تاریخ رقم کی۔
نیا ریکارڈ قائم کرنے والے تیراک نے بعد ازاں بتایا کہ ریس مکمل ہونے پر اسکور بورڈ دیکھتے ہی انہیں فوری اندازہ نہیں ہوا کہ عالمی ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔ چند لمحوں بعد انہیں سابقہ ریکارڈ یاد آیا اور اپنی کارکردگی کی اہمیت کا احساس ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر مقابلہ بہت سخت ہے اور ریکارڈ بنانے کے باوجود کسی تیراک کو مطمئن ہو کر بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
اس ریس میں سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر کولی سنکوف بھی شریک تھے، تاہم وہ 22.88 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ چھٹی پوزیشن پر رہے۔ روس کے ایگور کورنیف 22.29 سیکنڈ کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔ رائٹرز کے مطابق کورنیف نے اسی مقابلے میں 100 میٹر فری اسٹائل فائنل بھی جیتا، جہاں انہوں نے آسٹریلیا کے کیمرون میک ایوائے کے برابر 45.24 سیکنڈ کا وقت لیا۔
تیراکی کے عالمی مقابلوں میں 50 میٹر بیک اسٹروک کی اہمیت مزید بڑھنے والی ہے کیونکہ یہ فاصلہ لاس اینجلس میں 2028 کے اولمپکس میں پہلی مرتبہ شامل ہوگا۔ اس سے پہلے شارٹ کورس عالمی چیمپیئن شپ یکم سے چھ دسمبر کے دوران بیجنگ میں مقرر ہے۔ تاشقند میں کوئٹزے کی کارکردگی اس نئے اولمپک مقابلے سے قبل عالمی سطح پر حریف تیراکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے مسابقتی معیار کی مثال ہے۔
