رانچی: ویسٹ انڈیز نے 9 اکتوبر کو کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھارت کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔ میزبان ٹیم کے 249 رنز کے جواب میں مہمان ٹیم نے 250 رنز کا بڑا ہدف نو گیندیں باقی رہتے حاصل کر لیا۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے اس کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے 45 گیندوں پر ناقابل شکست 102 رنز کی اننگز کھیلی۔

ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی ابتدا مشکل رہی۔ بھارتی فاسٹ بولر میانک یادو نے پہلے اوور میں کمیل پورن اور شمرون ہیٹمائر کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کیا، جبکہ بعد میں روومین پاول کی وکٹ بھی حاصل کی۔ ابتدائی نقصان کے باوجود کپتان ہوپ نے جارحانہ مگر منظم بیٹنگ جاری رکھی اور اہم شراکت داری قائم کی۔

شرفین ردرفورڈ نے ہوپ کے ساتھ چوتھی وکٹ پر 120 رنز جوڑ کر میچ کا رخ بدل دیا۔ ردرفورڈ نے 37 گیندوں پر 84 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں ایک اہم موقع اس وقت آیا جب 38 کے انفرادی اسکور پر ان کا کیچ چھوٹ گیا۔ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیزی سے رنز بنائے، تاہم بعد میں کلدیپ یادو کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ہوپ نے اپنی اننگز جاری رکھی اور روماریو شیفرڈ کے ساتھ ٹیم کو ہدف تک پہنچایا۔

اس سے پہلے بھارت نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے تھے۔ سنجو سیمسن نے 41 گیندوں پر 82 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی۔ ابھیشیک شرما کے ساتھ ان کی ابتدائی شراکت نے تیز آغاز فراہم کیا۔ ویسٹ انڈیز کے روسٹن چیز نے چند اہم وکٹیں حاصل کرکے رن ریٹ پر کچھ حد تک قابو پانے کی کوشش کی، جبکہ شمر اسپرنگر نے سیمسن کو آؤٹ کیا۔ اننگز کے آخری حصے میں شریاس ایئر اور تلک ورما نے 32 گیندوں پر 83 رنز کی شراکت قائم کی؛ ایئر 40 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق یہ مردوں کی ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ کی دوسری سب سے بڑی کامیاب رن چیز تھی۔ اس فہرست میں 2023 میں جنوبی افریقہ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف 259 رنز کے ہدف کا تعاقب پہلے نمبر پر ہے۔ ویسٹ انڈیز کے لیے یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس کی سب سے بڑی کامیاب رن چیز بھی ہے۔

سیریز میں برابری کے بعد دونوں ٹیموں کا اگلا مقابلہ اتوار کو اندور میں طے ہے۔ رانچی کی فتح نے مہمان ٹیم کے لیے سیریز میں واپسی کی راہ ہموار کی، تاہم سیریز کے مجموعی فاتح کا فیصلہ باقی میچوں کے نتائج سے ہوگا۔