حیدرآباد: تاریخی نیاز اسٹیڈیم کو حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے 20 سالہ مفاہمتی یادداشت کے تحت دوبارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انتظام میں دے دیا ہے۔ معاہدے پر میئر کاشف علی شورو اور پی سی بی کے چیف آپریٹنگ افسر سمیع احمد سید نے اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب کے دوران دستخط کیے۔ ڈان کے مطابق بورڈ نے مقام کو مرحلہ وار اپ گریڈ کر کے پہلے ملکی کرکٹ، پھر پاکستان سپر لیگ اور مستقبل میں بین الاقوامی میچوں کے قابل بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
پی سی بی حکام نے کہا کہ اسٹیڈیم کی گنجائش بڑھانے اور فلڈ لائٹس نصب کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ آئی سی سی سے متعلق مطلوبہ بین الاقوامی معیار بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ بورڈ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور پی ایس ایل فرنچائز حیدرآباد کنگزمین کے ساتھ مل کر کرکٹ کی بحالی اور سہولیات کی ترقی پر کام کرے گا۔
پی سی بی نے بارہویں پی ایس ایل ایڈیشن میں کم از کم ایک میچ نیاز اسٹیڈیم میں کرانے کی کوشش کا ذکر کیا، تاہم اسے آؤٹ فیلڈ کی حالت سے مشروط کیا گیا ہے۔ پچ پر کام فوری شروع کرنے کی بات بھی کی گئی، جبکہ اگلے ایڈیشنز میں مزید پی ایس ایل میچوں کی میزبانی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بورڈ نے جنوری یا فروری 2027 میں حیدرآباد میں ریجنل کرکٹ اکیڈمی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جہاں ٹرائلز کے ذریعے منتخب نوجوانوں کو کوچنگ اور فزیوتھراپی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
اپ گریڈ کا تفصیلی روڈ میپ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔ پی سی بی نے کہا کہ دو ماہ کے اندر میونسپل کارپوریشن اور انتظامیہ کو منصوبے کی پریزنٹیشن دی جائے گی۔ حکام نے واضح کیا کہ فوری طور پر کسی ون ڈے انٹرنیشنل کی ضمانت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے اسٹیڈیم کو کم از کم مطلوبہ معیار تک پہنچانا ہوگا۔ مناسب ہوٹل اور ٹیموں کی رہائش بھی عملی عوامل میں شامل ہیں۔
اسٹیڈیم کی ملکیت حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس رہے گی جبکہ پی سی بی بہتری اور کرکٹ انتظامات سنبھالے گا اور گیٹ آمدن کا حصہ کارپوریشن کے ساتھ بانٹے گا۔ بورڈ نے گراؤنڈ کے تحفظ کے لیے غیر کرکٹ تقریبات محدود رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اس طرح معاہدہ فوری بین الاقوامی میچ کی ضمانت نہیں بلکہ طویل مدتی بحالی اور اپ گریڈ کے عمل کا آغاز ہے۔
