اسلام آباد: وفاقی وزارت تجارت سونے کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے بعد زیورات کی صنعت سے متعلق ویلیو ایڈیشن میکانزم (وی اے ایم) میں نظرثانی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر تجارت جام کمال خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ طے پانے والی مجوزہ تبدیلیوں پر کابینہ کے لیے سمری تیار اور ارسال کی جائے۔

وزارت تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری ایکسپورٹ امپورٹ وقاص عظیم نے وزیر کو سونے اور زیورات کی صنعت کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ نظرثانی پر متعلقہ فریقوں، جن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی شامل ہے، کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے۔ موجودہ میکانزم میں عالمی سونے کی قیمت ایک اہم حوالہ ہے، اس لیے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ برآمدی یا تجارتی قواعد کے تحت مطلوبہ ویلیو ایڈیشن کے حساب کو متاثر کر سکتا ہے۔

ویلیو ایڈیشن میکانزم کا مقصد قیمتی دھات کے خام یا درآمدی استعمال اور تیار زیورات کی برآمد کے درمیان قابل قبول اضافی قدر کا معیار مقرر کرنا ہوتا ہے۔ اگر عالمی مارکیٹ میں سونے کی بنیادی قیمت بہت تیزی سے بڑھ جائے تو فیصدی یا مقررہ شرائط کاروبار کی عملی لاگت اور برآمدی مسابقت پر مختلف اثر ڈال سکتی ہیں۔ صنعت اسی تناظر میں قواعد کو موجودہ عالمی قیمتوں کے مطابق بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

وزیر تجارت کی ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ نظرثانی نافذ ہو چکی ہے۔ اس مرحلے پر وزارت کو وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہے، اور حتمی قواعد، شرحیں یا فارمولہ کابینہ کے فیصلے اور بعد کے سرکاری نوٹیفکیشن سے واضح ہوں گے۔ اس لیے کسی مخصوص رعایت، برآمدی فائدے یا مالی اثر کو حتمی سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔

سونے کی بلند قیمتیں پاکستان کی جیولری صنعت کے لیے ورکنگ کیپیٹل، خام مال کی خرید اور برآمدی قیمت بندی کے مسائل بڑھا سکتی ہیں۔ دوسری طرف قیمتی دھاتوں کی تجارت میں زرمبادلہ، درآمدی قواعد اور دستاویزی نگرانی کے تقاضے بھی اہم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وزارت تجارت اور اسٹیٹ بینک سمیت مختلف اداروں کی مشاورت ضروری سمجھی جاتی ہے۔

اگر کابینہ مجوزہ تبدیلی کی منظوری دیتی ہے تو وزارت تجارت کو نئے طریقہ کار کی تفصیل جاری کرنا ہوگی، جس کے بعد صنعت پر حقیقی اثر کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ وزیر تجارت نے عالمی سونے کی قیمتوں کے تناظر میں وی اے ایم کی نظرثانی کو کابینہ کی منظوری کے لیے آگے بڑھانے کی ہدایت کر دی ہے۔