وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایشیائی ترقیاتی بینک، اے ڈی بی، سے پاکستان کی برآمدات بڑھانے اور ان میں تنوع پیدا کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک روڈمیپ تیار کرنے میں تکنیکی معاونت طلب کی ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ درخواست 3 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں اے ڈی بی کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کی گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ قرض پر مبنی استحکام دیرپا معاشی تبدیلی کا متبادل نہیں اور پاکستان کو پائیدار نمو کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے اے ڈی بی سے عالمی تجربے اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر ایسا روڈمیپ بنانے میں مدد مانگی جو نئی مصنوعات، منڈیوں اور قدر میں اضافے کے مواقع کی نشاندہی کرسکے۔ یہ ابھی معاونت کی درخواست اور پالیسی گفتگو ہے؛ کسی نئی مالی گرانٹ، قرض یا مکمل شدہ برآمدی منصوبے کی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔
وفاقی وزیر نے 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے حکومتی ہدف کا بھی حوالہ دیا۔ یہ مستقبل کا سرکاری ہدف ہے، موجودہ معاشی حجم یا یقینی نتیجہ نہیں۔ اس کے حصول کا انحصار برآمدی مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، توانائی و لاجسٹکس کی لاگت، انسانی مہارت اور عالمی طلب سمیت کئی عوامل پر ہوگا۔ ملاقات میں صنعت، غذائی تحفظ، تجارت اور اقتصادی سفارت کاری کی ساختی رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت بیان کی گئی۔
ملاقات میں موسمیاتی موافقت اور آبی تحفظ بھی زیر بحث آئے۔ احسن اقبال نے کہا کہ غیر موسمی اور شدید بارشوں کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر مقامی سطح پر چھوٹے ڈیم، آبی ذخائر اور بارش کا پانی روکنے والے تالاب یا ریٹینشن پونڈز بنانے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے ڈھانچے شہری سیلاب کے خطرے کو کم کرنے، زراعت کے لیے پانی محفوظ کرنے اور مجموعی آبی تحفظ بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ تجویز کسی مخصوص چھوٹے ڈیم یا ذخیرے کی حتمی منظوری نہیں۔ سرکاری اعلامیے میں مقام، تعداد، لاگت، ماحولیاتی جانچ یا تعمیر کی مدت جاری نہیں کی گئی۔ ہر ممکنہ منصوبے کے لیے مقامی ارضی و آبی حالات، زمین، پانی کے بہاؤ، حفاظت، آبادی پر اثر اور مالی قابلِ عمل ہونے کا الگ جائزہ ضروری ہوگا۔ وفاقی وزیر نے اچانک سرحد پار آبی بہاؤ کو بھی منصوبہ بندی کا چیلنج قرار دیا۔
احسن اقبال نے گلگت بلتستان میں سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر وہاں کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے پائیدار سیاحتی انتظام کا فریم ورک بنانے میں بھی اے ڈی بی کی تکنیکی مہارت مانگی۔ اس مجوزہ فریم ورک میں عملی طور پر سیاحتی مقامات کی برداشت، کچرے اور پانی کا انتظام، تعمیراتی ضابطے، نقل و حمل اور مقامی آبادی کے مفادات جیسے موضوعات شامل ہوسکتے ہیں، مگر سرکاری بیان نے حتمی دائرۂ کار یا اقدامات کی فہرست جاری نہیں کی۔
یہ درخواست پہلے سے زیر غور گلگت بلتستان کے شمسی توانائی منصوبوں یا سیاحتی برداشت کے سرکاری مطالعے سے الگ پیش رفت ہے۔ موجودہ ملاقات میں بنیادی اقدام ایک بین الاقوامی ترقیاتی بینک سے تکنیکی تعاون طلب کرنا تھا۔ اے ڈی بی نے ادارہ سازی، موسمیاتی لچک اور طویل مدتی پائیدار نمو میں تعاون جاری رکھنے کا عمومی عزم ظاہر کیا، لیکن کسی مخصوص سیاحتی یا آبی منصوبے کے لیے مالی رقم کی منظوری نہیں دی۔
اے ڈی بی کے نائب صدر نے احسن اقبال کو 29 اور 30 ستمبر 2026 کو منگولیا کے دارالحکومت اولان باتر میں ہونے والی 25ویں وسطی ایشیا علاقائی اقتصادی تعاون، کیریک، وزارتی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی دعوت دی، جسے وزیر نے قبول کرلیا۔ دعوت کی قبولیت کانفرنس میں متوقع شرکت کی تصدیق ہے، مگر وہاں ہونے والے کسی آئندہ معاہدے یا فیصلے کی پیشگی ضمانت نہیں۔
اے ڈی بی نمائندے نے اڑان پاکستان فریم ورک کے تحت حکومت کی بنیادی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ رابطہ جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ تکنیکی تعاون کا حقیقی نتیجہ تب واضح ہوگا جب مشاورتی کام کا دائرہ، ذمہ دار ادارے، قابلِ پیمائش اہداف، مالی بندوبست اور عمل درآمد کی مدت طے ہوں گے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت برآمدی توسیع و تنوع کے روڈمیپ، مقامی آبی ذخیرہ کاری اور گلگت بلتستان کے پائیدار سیاحت فریم ورک کے لیے ADB سے تکنیکی معاونت کی سرکاری درخواست اور کیریک کانفرنس کی دعوت قبول کرنا ہے۔ اسے کسی نئے قرض، منصوبہ جاتی فنڈنگ یا تعمیراتی کام کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔




