اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ویلیو ایڈڈ زرعی اور غذائی برآمدات بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کے برآمدی فنانس پول کو 2026 سے 2028 کے دوران ایک کھرب روپے سے بڑھا کر 2 کھرب روپے کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ اقدام خام اجناس کی فروخت کے بجائے پراسیسنگ، سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، برانڈنگ اور اعلیٰ قدر کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی پر مرکوز وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

منصوبے کی تفصیلات 4 ستمبر 2026 کو وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت ’’پاکستان کی اعلیٰ قدر کی برآمدی صلاحیت کھولنے‘‘ سے متعلق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تیسرے اجلاس میں سامنے آئیں۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، جامعات، تجارتی تنظیموں، سرٹیفکیشن اداروں، برآمد کنندگان اور گوشت، پولٹری، ڈیری، چاول، کھجور، باغبانی، زیتون اور نامیاتی پیداوار سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق فنانس پول کی توسیع مرحلہ وار 2026 تا 2028 ہوگی اور برآمد کنندگان کی قرض تک رسائی کی ماہانہ نگرانی کی جائے گی۔ وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے الگ فنانسنگ ونڈو بھی تیار کی جا رہی ہے۔ یہ اہداف اور زیرِ تیاری اقدامات ہیں؛ 2 کھرب روپے کی پوری رقم فوری طور پر جاری ہونے یا ہر برآمد کنندہ کو خودکار قرض ملنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عملی رسائی شریک بینکوں، ایگزم قواعد، کاروباری اہلیت اور کریڈٹ جانچ سے مشروط ہوگی۔

یہ منصوبہ ای ڈی ایف اور ایگزم بینک کے حالیہ 3 ارب روپے کے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس رسک پول سے الگ ہے۔ 3 ارب روپے کا انتظام عدم ادائیگی کے خطرے کے خلاف انشورنس تحفظ کے لیے ہے، جبکہ 2 کھرب روپے کا ہدف برآمدی فنانسنگ کی مجموعی گنجائش بڑھانے سے متعلق ہے۔ دونوں اقدامات برآمد کنندگان کی مالی مشکلات کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان کا حجم، مقصد اور نفاذی ڈھانچہ ایک نہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل کمپلائنس اتھارٹی کو تین ماہ کے اندر فعال کرنے کا ارادہ ہے۔ اس ادارے کا مقصد بین الاقوامی معیار، مصنوعات کی تصدیق، لیبارٹری جانچ اور منڈیوں کی شرائط پوری کرنے میں موجود خلا کم کرنا ہے۔ تاہم اتھارٹی کے مکمل قانونی اختیار، بجٹ، عملے اور نفاذی قواعد کی تفصیل ابھی الگ سرکاری دستاویزات میں واضح ہونا باقی ہے؛ تین ماہ کی مدت سرکاری توقع ہے، مکمل شدہ نتیجہ نہیں۔

پیش کردہ اعداد کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی غذائی برآمدات 5.02 ارب ڈالر رہیں، جبکہ غذائی درآمدی بل 9.15 ارب ڈالر تھا۔ اجناس کی سطح پر چاول اور چینی کی برآمدات کم ہوئیں، جبکہ گوشت، مچھلی اور پھلوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی 2026 میں غذائی برآمدات سالانہ بنیاد پر 2.5 فیصد بڑھیں؛ چاول کی برآمدات میں 19 فیصد اور گوشت میں 16 فیصد اضافہ بتایا گیا۔ یہ ایک ماہ کے اعداد ہیں اور انہیں پورے مالی سال کا حتمی رجحان نہیں سمجھا جا سکتا۔

حکومت نے حلال گوشت و پولٹری، اعلیٰ معیار کی باغبانی، برانڈڈ باسمتی، پراسیس شدہ غذاؤں، کھجور، خوردنی تیل اور نامیاتی یا دوبارہ پیدا کرنے والی کاشت کی مصدقہ مصنوعات کو ممکنہ ترجیحی شعبے قرار دیا۔ شرکا نے کولڈ چین، جدید فوڈ پراسیسنگ، پیکجنگ، بیماریوں کے کنٹرول، بہتر نسلوں، قومی نامیاتی معیارات اور کم لاگت گروپ سرٹیفکیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ناقص معیار کی برآمدی کھیپوں کے باعث منڈیاں متاثر ہونے پر ذمہ دار برآمد کنندگان کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی کی تجاویز بھی سامنے آئیں۔

احسن اقبال نے اجلاس کی تجاویز کو واضح فیصلوں میں بدل کر متعلقہ وزارتوں کو ذمہ داریاں دینے اور تین ماہ بعد پیش رفت کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اس حکمتِ عملی کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ فنانس پول کی عملی دستیابی، ایس ایم ای قرض، مصدقہ مصنوعات، نئی منڈیوں تک رسائی، برآمدی قدر اور درآمدی بل کے مقابلے میں قابلِ پیمائش بہتری ہوگی۔