نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا، نے حکومت کو آئندہ قابل تجدید توانائی نیلامی میں ونڈ اور سولر منصوبوں کے ساتھ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، یعنی بی ای ایس ایس، لازمی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ فیصلہ تقریباً 800 میگاواٹ کی مجوزہ قابل تجدید بجلی کی صلاحیت کی نیلامی سے متعلق ہے اور اس کا بنیادی مقصد بجلی کے نظام میں دن کے مختلف اوقات میں پیداوار اور طلب کے تیز فرق، خصوصاً نام نہاد ڈک کرو چیلنج، کو سنبھالنے میں مدد دینا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے تین دہائیوں سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد مسابقتی بنیادوں پر بجلی کی خریداری کے لیے نیلامی کا عمل آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نجی شعبے کے ساتھ بولی کے شیڈول اور دیگر عملی تفصیلات پر مشاورت کر رہی ہے۔ جولائی میں یہ اصولی فیصلہ کیا گیا تھا کہ آئندہ نیلامی میں حصہ لینے والے ونڈ اور سولر منصوبوں کے لیے بیٹری اسٹوریج کی شرط رکھی جائے، جسے اب ریگولیٹر نے متعلقہ وہیلنگ آکشن طریقہ کار میں ترامیم کے ذریعے اجازت دے دی ہے۔
ڈان کے مطابق ممکنہ بولی دہندگان کو اپنے مجوزہ ونڈ یا سولر منصوبے کی کم از کم 10 فیصد صلاحیت کے برابر بیٹری انرجی اسٹوریج فراہم کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ بیٹری اسٹوریج کا مقصد ایسے اوقات میں اضافی بجلی محفوظ کرنا ہے جب شمسی یا ہوائی پیداوار زیادہ ہو، اور ضرورت کے وقت اسے نظام میں واپس فراہم کرنا ہے۔ اس طریقے سے گرڈ کو قابل تجدید توانائی کی متغیر پیداوار کے ساتھ بہتر طور پر متوازن کیا جا سکتا ہے۔
نیپرا کی منظوری کے بعد انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر، جو پاور ڈویژن کے تحت کام کرتا ہے، پہلے 400 میگاواٹ بلاک کے لیے درخواست برائے تجاویز جاری کرنے کی سمت بڑھ سکے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل رواں ماہ شروع کرنے کی تیاری ہے۔ مکمل 800 میگاواٹ پروگرام کے عملی مراحل، بولی کی حتمی شرائط اور منصوبوں کے آغاز کا انحصار سرکاری شیڈول اور کامیاب بولیوں پر ہوگا۔
پاکستان کے بجلی نظام میں سولر پیداوار کے تیزی سے پھیلاؤ نے دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کے روایتی انداز کو تبدیل کیا ہے۔ بیٹری اسٹوریج کو اس تبدیلی سے پیدا ہونے والی تکنیکی مشکلات کے ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کی لاگت بھی منصوبوں کی مجموعی قیمت اور بولیوں پر اثر انداز ہوگی۔ نیپرا کا موجودہ فیصلہ کسی مخصوص منصوبے کو ٹھیکہ دینے کے بجائے نیلامی کے قواعد میں بیٹری اسٹوریج کی لازمی شرط شامل کرنے کی ریگولیٹری اجازت ہے۔




