فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، نے ٹیکس سال 2026 کے لیے ترمیم شدہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم نوٹیفائی کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے ایس آر او 1495(I)/2026 جاری کرتے ہوئے انکم ٹیکس رولز 2002 میں تبدیلیاں کی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے تحت قواعد کے دوسرے شیڈول میں موجود حصوں کے بعد نئے پارٹس ZE، ZF، ZG اور ZH شامل کیے گئے ہیں، جس سے ٹیکس ریٹرن کے موجودہ ڈھانچے میں نئی معلومات اور اندراجات کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی قانونی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہے۔ اس وجہ سے ٹیکس پریکٹیشنرز اور فائلرز کے لیے نئے فارم کو سمجھنے، سافٹ ویئر یا آن لائن پورٹل کے مطابق تیاری کرنے اور مطلوبہ معلومات مکمل کرنے کے لیے دستیاب وقت محدود ہے۔ بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں ایک ٹیکس ماہر نے آخری مرحلے میں تبدیلیوں کو الجھن پیدا کرنے والا قرار دیا اور کہا کہ اس سے قانونی اور تکنیکی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ ماہر کی رائے ہے، ایف بی آر کا سرکاری مؤقف نہیں۔
ماہر نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ نئے حصوں اور عملی تقاضوں کی فوری وضاحت کی جائے تاکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پروفیشنلز مقررہ مدت میں ریٹرن جمع کرا سکیں۔ رپورٹ میں ایف بی آر کی جانب سے اس تنقید پر الگ تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔ نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت اپنی جگہ برقرار ہے اور فائلرز کو تازہ قواعد کے مطابق ریٹرن تیار کرنا ہوگا، جب تک ایف بی آر کسی مزید ترمیم، وضاحت یا مہلت کا اعلان نہ کرے۔
انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں تبدیلیاں عام طور پر اثاثوں، آمدن، کٹوتیوں، کاروباری معلومات یا دیگر ٹیکس ڈیٹا کی رپورٹنگ کے طریقہ کار پر اثر ڈال سکتی ہیں، تاہم موجودہ خبر میں نئے ZE سے ZH حصوں کی تمام فیلڈز اور ان کے اطلاق کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے ان حصوں کے بارے میں غیر مصدقہ مفروضہ قائم کرنا درست نہیں ہوگا۔ ٹیکس دہندگان کے لیے ایف بی آر کے سرکاری فارم، قواعد اور بعد میں جاری ہونے والی وضاحتیں بنیادی حوالہ رہیں گی۔
تازہ ایس آر او سے ٹیکس سال 2026 کی فائلنگ کے عمل میں ایک اہم انتظامی تبدیلی آ گئی ہے۔ چونکہ آخری تاریخ قریب ہے، اس کا عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ایف بی آر اپنے آن لائن نظام میں تبدیلیاں کتنی جلد مکمل کرتا ہے اور فائلرز کو نئے تقاضوں کی کتنی واضح رہنمائی ملتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ ترمیم شدہ فارم نوٹیفائی ہو چکا ہے اور متعلقہ انکم ٹیکس قواعد میں نئے حصے شامل کر دیے گئے ہیں۔




