پاکستان کی سرکاری توانائی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے مالی سال 2025-26 کے لیے 242.4 ارب روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ منافع گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 43 فیصد زیادہ ہے اور کمپنی کی تاریخ کا بلند ترین سالانہ منافع ہے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مالی نتائج کی منظوری دی، جبکہ کمپنی کی خالص فروخت 449.191 ارب روپے بتائی گئی۔
مالی سال کے پہلے نو ماہ، جولائی 2025 سے مارچ 2026، میں کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے رہا تھا۔ یہ ایک سال پہلے کے اسی عرصے کے تقریباً 130 ارب روپے کے مقابلے میں لگ بھگ 12 فیصد کم تھا۔ تاہم مالی سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی تیل قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے کمپنی کے مالی نتائج کو تیزی سے بدل دیا۔ ڈان کے مطابق اس عرصے میں او جی ڈی سی ایل نے تقریباً 128 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع کمایا، جو پہلے تین سہ ماہیوں کے مجموعی منافع سے بھی زیادہ تھا اور کمپنی کا بلند ترین سہ ماہی منافع بنا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور رسد میں خلل کے خدشات کے بعد بڑھی تھیں۔ چونکہ او جی ڈی سی ایل کی آمدن کا بڑا حصہ تیل اور گیس کی پیداوار اور متعلقہ قیمتوں سے جڑا ہے، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ کمپنی کے روپے میں ظاہر ہونے والے ریونیو اور منافع پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ اس بار آخری سہ ماہی کی غیر معمولی کارکردگی نے پہلے نو ماہ کی نسبتاً کمزور رفتار کو نہ صرف پورا کیا بلکہ پورے سال کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
ریکارڈ منافع کے باوجود نتائج کا تجزیہ کرتے وقت یہ فرق اہم ہے کہ کمپنی کی بنیادی آپریشنل کارکردگی اور عالمی قیمتوں سے حاصل ہونے والا فائدہ الگ عوامل ہیں۔ پہلے نو ماہ میں منافع میں سالانہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پورے سال کی 43 فیصد نمو بڑی حد تک آخری سہ ماہی کے قیمت سازگار ماحول سے آئی۔ مستقبل میں تیل کی عالمی قیمتیں کم یا زیادہ ہونے سے اسی طرح کمپنی کے نتائج میں نمایاں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج بڑی توانائی کمپنیوں میں شامل ہے اور حکومت اس میں اہم حصص رکھتی ہے۔ اس لیے کمپنی کے منافع اور تقسیم شدہ منافع کا اثر نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ سرکاری آمدن پر بھی پڑتا ہے۔ تازہ نتائج مالی سال 2025-26 کی منظور شدہ مالی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں؛ آئندہ سال کی آمدن کا دارومدار پیداوار، عالمی قیمتوں، شرح مبادلہ اور ملکی توانائی پالیسی سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔




