اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، نے برآمد کنندگان کے زیرِ التوا یا مؤخر سیلز ٹیکس ریفنڈز کی پراسیسنگ میں تبدیلی کرتے ہوئے چار اضافی ہفتہ وار سسٹم جانچیں شامل کر دی ہیں۔ 4 ستمبر 2026 کو جاری ایس آر او 1498(I)/2026 کے ذریعے سیلز ٹیکس رولز 2006 کے قاعدہ 29 کی ذیلی شق 2 اور قاعدہ 39F کے دوسرے proviso میں یکساں ترمیم کی گئی ہے۔

نئے طریقۂ کار کے مطابق ریفنڈ دعوے کی ابتدائی جانچ سمیت آٹھ ویلیڈیشن چیک مکمل ہونے کے بعد جو رقم غیر کلیئر یا غیر تصدیق شدہ رہ جائے، اسے فوری طور پر اگلے دستی پراسیسنگ مرحلے میں بھیجنے کے بجائے سسٹم چار مزید جانچوں یا سائیکلوں سے گزارے گا۔ ہر اضافی سائیکل ہفتے میں ایک مرتبہ چلایا جائے گا اور صرف اسی رقم پر لاگو ہوگا جو پہلے آٹھ چیک کے بعد باقی رہ گئی ہو۔

چار اضافی سائیکل مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی رقم کلیئر یا تصدیق نہ ہو تو اسے سیلز ٹیکس قواعد کے باب پنجم میں بیان کردہ STARR ماڈیول کے تحت پراسیس کیا جائے گا۔ اس ترمیم سے پہلے متعلقہ متن میں آٹھ جانچوں کے بعد باقی غیر کلیئر رقم کو براہِ راست STARR چینل یا ماڈیول میں منتقل کرنے کی ہدایت تھی۔ نیا حکم اسی درمیانی مرحلے میں مزید چار سسٹم مواقع پیدا کرتا ہے۔

ویلیڈیشن سائیکل کا اضافہ ریفنڈ کی خودکار منظوری یا ادائیگی کی ضمانت نہیں ہے۔ اس کا مقصد ایسے دعووں کو دوبارہ سسٹم سے جانچنے کا موقع دینا ہے جو ڈیٹا، رسید، انوائس، گوشوارے یا کسی متعلقہ تصدیق کے باعث پہلے مرحلے میں کلیئر نہیں ہوئے۔ صرف وہ رقم آگے بڑھے گی جو قواعد اور سسٹم کی مقررہ شرائط پوری کرے؛ باقی معاملہ STARR کے تحت مزید جانچ کا سامنا کرے گا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے یہ تبدیلی برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد کی اور ہدف مؤخر یا زیرِ التوا ریفنڈز کی ادائیگی تیز کرنا ہے۔ تاہم سرکاری ایس آر او میں زیرِ التوا دعووں کی مجموعی رقم، متاثرہ برآمد کنندگان کی تعداد، ہر ہفتہ جانچ کی مخصوص تاریخ یا ادائیگی کی حتمی مدت درج نہیں۔ اس لیے ترمیم کے نتیجے میں تمام پرانے ریفنڈز ایک مقررہ دن تک ادا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

سیلز ٹیکس ریفنڈ برآمدی کاروباروں کے نقد بہاؤ کے لیے اہم ہوتے ہیں، کیونکہ قابلِ واپسی ان پٹ ٹیکس طویل عرصہ رکا رہے تو خام مال، اجرت، بجلی اور نئی برآمدی آرڈر فنانسنگ کے لیے دستیاب سرمایہ کم ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف ریفنڈ نظام میں غلط یا غیر مستند دعووں کی روک تھام بھی ضروری ہے۔ نئی ترتیب بظاہر تیز ادائیگی اور تصدیقی نگرانی کے درمیان اضافی خودکار مرحلہ فراہم کرتی ہے۔

ترمیم قاعدہ 29 اور 39F کے متعلقہ متن میں ’’غیر کلیئر‘‘ کے ساتھ ’’غیر تصدیق شدہ‘‘ رقم کو بھی واضح طور پر شامل کرتی ہے۔ اس سے یہ بات درج ہوتی ہے کہ صرف تکنیکی کلیئرنس نہ ہونے والے دعوے ہی نہیں، تصدیق مکمل نہ ہونے والی رقم بھی چار اضافی سائیکلوں کے دائرے میں آئے گی۔ حتمی نتیجہ ہر دعوے کے ڈیٹا اور قانونی اہلیت پر منحصر رہے گا۔

عملی کامیابی کا جائزہ اس بات سے ہوگا کہ اضافی جانچوں کے ذریعے کتنی رقم STARR تک پہنچنے سے پہلے کلیئر ہوتی ہے، اوسط ادائیگی وقت میں کتنی کمی آتی ہے، غلط دعوے کس حد تک روکے جاتے ہیں اور برآمد کنندگان کو اعتراض یا دستاویزی کمی کے بارے میں بروقت اطلاع ملتی ہے۔ ایف بی آر کی اصل ایس آر او قانونی تبدیلی کی بنیاد ہے، جبکہ ادائیگیوں کے نتائج بعد کے انتظامی اور شماریاتی ریکارڈ سے سامنے آئیں گے۔