کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد نے یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کی بیسٹ گلوبل یونیورسٹیز 2026–27 درجہ بندی میں پاکستانی جامعات میں سب سے بلند مقام حاصل کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یونیورسٹی 52 مجموعی اسکور کے ساتھ دنیا میں 410ویں نمبر پر رہی۔ اس فہرست میں قائداعظم یونیورسٹی 451ویں، یونیورسٹی آف لاہور 479ویں، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی 573ویں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 590ویں پوزیشن پر بتائی گئی ہے۔
یہ درجہ بندی بنیادی طور پر تحقیقی کارکردگی، تحقیق کی عالمی شہرت، علمی اشاعتوں کے اثر اور بین الاقوامی علمی روابط جیسے اشاریوں کو اہمیت دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے داخلوں کے لیے واحد یا مکمل معیار نہیں سمجھنا چاہیے۔ کسی طالب علم کے لیے پروگرام کی منظوری، مخصوص شعبے کی تدریسی معیار، فیس، اسکالرشپ، مقام اور روزگار سے تعلق بھی الگ اہم عوامل ہیں۔ موجودہ خبر مجموعی عالمی اور موضوعاتی تحقیقی درجہ بندی کی رپورٹ ہے۔
کامسیٹس کی موضوعاتی کارکردگی میں ریاضی میں عالمی سطح پر 28واں، گرین اینڈ سسٹین ایبل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں 67واں، الیکٹریکل و الیکٹرانک انجینئرنگ میں 151واں، انجینئرنگ میں مجموعی طور پر 142واں اور مصنوعی ذہانت میں 178واں مقام شامل ہے۔ کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری اور کیمیکل انجینئرنگ میں بھی یونیورسٹی کی عالمی موجودگی رپورٹ کی گئی، تاہم دستیاب خبر میں ان تینوں شعبوں کے عین رینک نمبر نہیں دیے گئے۔
ریکٹر کامسیٹس پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے اس نتیجے کو تحقیق، اختراع اور بین الاقوامی تعاون پر جامعہ کی توجہ سے منسلک کیا۔ ان کے مطابق عالمی شناخت یونیورسٹی کو پیدا ہونے والے علم کے اثر کو مزید بڑھانے کی ترغیب دے گی۔ یہ ادارے کا مؤقف ہے؛ درجہ بندی کے نتائج خود بخود تدریسی تجربے، تمام کیمپسوں کی یکساں کارکردگی یا ہر شعبے کے روزگار نتائج ثابت نہیں کرتے۔
پاکستانی جامعات کی فہرست میں ایک سے زیادہ اداروں کا شامل ہونا ملک کی تحقیقی پیداوار اور عالمی علمی رابطوں کی موجودگی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف مختلف بین الاقوامی رینکنگ ادارے الگ طریقۂ کار، ڈیٹا مدت اور وزن استعمال کرتے ہیں، اس لیے ایک ہی جامعہ کی پوزیشن مختلف فہرستوں میں بدل سکتی ہے۔ تقابل کرتے وقت متعلقہ ایڈیشن اور طریقۂ کار کو ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
کامسیٹس کے لیے اگلا قابلِ پیمائش مرحلہ یہ ہوگا کہ وہ اشاعتوں کے معیار، تحقیق کے عملی اثر، بین الاقوامی شراکت، طلبہ کی تربیت اور آزادانہ تعلیمی معیار میں مسلسل بہتری دکھائے۔ اردو ہیڈ لائنز اس درجہ بندی کو کسی داخلہ سفارش یا جامعہ کے تمام پروگراموں کی ضمانت کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔ مستقبل کی پوزیشن یا طریقۂ کار میں تبدیلی کو متعلقہ رینکنگ ادارے اور یونیورسٹی کے باضابطہ ریکارڈ سے الگ طور پر جانچا جائے گا۔




