ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قومی اکیڈمی برائے اعلیٰ تعلیم کے پروگرام ’اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ لیڈرشپ ایکسی لینس‘ میں شریک جامعاتی رہنماؤں نے نسٹ کے تعلیمی و تحقیقی نظام کا جائزہ لیا، جبکہ پروگرام کی ایک نشست میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اعلیٰ تعلیم میں مؤثر قیادت، شفاف حکمرانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی دونوں رپورٹس ایک ہی قیادت پروگرام کے مختلف مراحل بیان کرتی ہیں، اس لیے انہیں الگ واقعات کے بجائے ایک مربوط پیش رفت کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور راولپنڈی خطے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، پرو وائس چانسلرز، سینئر ڈینز اور قانونی اداروں کے سربراہان نے نسٹ کا دورہ کیا۔ انہیں جامعہ کے تعلیمی ماحول، تحقیق و اختراع کے ڈھانچے اور انتظامی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ وفد نے نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اور اسکول آف انٹرڈسپلنری انجینئرنگ اینڈ سائنسز سمیت منتخب سہولتیں دیکھیں اور تعلیم، تحقیق، صنعت اور اختراع کے باہمی رابطے کا جائزہ لیا۔

چیئرمین سینیٹ نے پروگرام کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ آج کی جامعات کی ذمہ داری صرف علم منتقل کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، اخلاقی اقدار اور قیادت پیدا کرنا بھی ہے۔ انہوں نے اسٹریٹجک منصوبہ بندی کو محض انتظامی کارروائی کے بجائے ادارہ جاتی ترقی کی ضرورت قرار دیا اور واضح وژن، وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال، شفاف فیصلہ سازی اور تحقیق دوست ماحول کو مضبوط جامعہ کی بنیاد بتایا۔

انہوں نے خواتین کی جامعات اور خواتین تعلیمی رہنماؤں کی شرکت کو خاص طور پر سراہا۔ ان کے مطابق خواتین کی تعلیم اور قیادت میں سرمایہ کاری خاندان، معاشرے، اداروں اور معیشت کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مختلف صوبوں اور خطوں کی جامعات کو قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی، تحقیق، کاروباری جدت اور پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔ یہ نکات پالیسی سمت اور ادارہ جاتی ترجیحات ہیں؛ کسی نئے مالی پیکیج یا قانونی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نسٹ میں ہونے والی گفتگو کے دوران اساتذہ و طلبہ کے تبادلوں، مشترکہ تدریسی سرگرمیوں، بین الشعبہ جاتی تحقیق اور ادارہ جاتی شراکتوں کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ ریکٹر نسٹ ڈاکٹر محمد زاہد لطیف نے واضح پالیسی فریم ورک، مشاورتی فیصلہ سازی اور قومی مسائل کے حل میں جامعات کے کردار پر بات کی۔ دستیاب معلومات میں کسی مفاہمتی یادداشت، مخصوص فنڈ، آغاز کی تاریخ یا حتمی شریک فہرست شامل نہیں، اس لیے ان امکانات کو باضابطہ منصوبہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس پروگرام کی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ تربیت اور تبادلۂ خیال کے بعد جامعات اپنے انتظامی نظام، تحقیق، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں میں کیا قابلِ پیمائش تبدیلی لاتی ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت قیادت کی تربیت، نسٹ کے نظام کا مشاہدہ اور ادارہ جاتی تعاون پر گفتگو تک محدود ہے۔ اردو ہیڈ لائنز کسی عملی شراکت، فنڈ یا مشترکہ تحقیقی پروگرام کی تصدیق متعلقہ جامعہ یا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے باضابطہ اعلان کے بعد اسی رپورٹ میں شامل کرے گا۔