اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ایکشن پلان 2025-29 کے پہلے سال کی پیش رفت اور فیز ٹو کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت منصوبہ بندی کے سرکاری بیان کے مطابق یہ ایکشن پلان اگست 2025 میں وزیراعظم کے دورۂ چین کے دوران حتمی شکل دیا گیا تھا۔ موجودہ اجلاس کسی نئے معاہدے پر دستخط کے بجائے پہلے سے طے شدہ پروگرام کی انتظامی جانچ اور آئندہ ترجیحات سے متعلق تھا۔
حکومت نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے بارے میں بتایا کہ اس کے تحت تقریباً 25 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری آئی اور قریب 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی صلاحیت قومی نظام میں شامل ہوئی۔ یہ اعداد وزارت کی سرکاری بریفنگ سے منسوب ہیں اور تمام منصوبوں کی موجودہ پیداوار، قرض و ایکویٹی کی الگ ساخت یا ہر منصوبے کی عملی کارکردگی کا مکمل حساب نہیں۔ پہلے مرحلے میں توانائی اور بڑے بنیادی ڈھانچے پر زور تھا، جبکہ حکومت فیز ٹو میں پیداواری شعبوں اور نجی کاروباری شراکت کو نمایاں کرنا چاہتی ہے۔
اجلاس میں کاروبار سے کاروبار تعاون، صنعتی ترقی، جدید زراعت، معدنی وسائل، انسانی سرمائے اور ٹیکنالوجی کو اہم شعبے قرار دیا گیا۔ وزارت کے مطابق نئے مرحلے کو پانچ موضوعاتی راہداریوں کے ذریعے پاکستان کے قومی ترقیاتی پروگرام ’’اڑان پاکستان‘‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایسی تجارتی سرگرمی پیدا کرنا ہے جو برآمد، روزگار، مہارت اور مقامی پیداوار میں اضافہ کرسکے۔ یہ اہداف پالیسی سمت ہیں؛ ان کے حصول کے لیے الگ سرمایہ کاری معاہدوں، مالی بندوبست، زمین، منظوریوں اور مارکیٹ تک رسائی کی ضرورت ہوگی۔
احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو محض اجلاسوں اور مفاہمتی یادداشتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ قابلِ پیمائش سرگرمیوں اور وقت بند عمل درآمد میں بدلا جائے۔ انہوں نے بین الوزارتی رابطے، نجی شعبے کے ساتھ مسلسل مشاورت اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا۔ سرکاری اعلامیے میں ہر منصوبے کے لیے الگ ٹائم لائن، نئی سرمایہ کاری کی مجموعی رقم یا زیر التوا منظوریوں کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی، اس لیے اجلاس کو تمام رکاوٹیں ختم ہونے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
زراعت کے شعبے میں ایک ہزار پاکستانی ماہرین کو چین میں تربیت دینے کے حکومتی پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزارت کے مطابق مقصد بیج، پانی کے مؤثر استعمال، مشینی کاشت، پراسیسنگ، معیار اور جدید زرعی طریقوں سے متعلق مہارت بڑھانا ہے۔ ایک ہزار ماہرین کی تربیت سرکاری پروگرام کا ہدف اور جاری اقدام ہے؛ اعلامیے نے یہ نہیں بتایا کہ اب تک کتنے افراد مکمل تربیت حاصل کرکے واپس آچکے ہیں یا ان کی مہارت کو کن اضلاع اور فصلوں میں استعمال کیا جائے گا۔
صنعتی اور معدنی تعاون کے لیے نجی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی منتقلی اور مقامی قدر میں اضافے کی ضرورت بیان کی گئی۔ حکومت نے واضح کیا کہ فیز ٹو میں چینی سرکاری سرمایہ کاری کے ساتھ نجی سرمایہ اور کاروباری روابط بڑھانا اہم ہوگا۔ کسی کاروباری تجویز کو حتمی سرمایہ کاری سمجھنے سے پہلے اس کا مالی اختتام، معاہدہ، ضابطہ جاتی منظوری اور عملی آغاز ضروری ہوتا ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے 2035 تک ملکی برآمدات 100 ارب ڈالر سے زیادہ کرنے کے حکومتی ہدف کے تناظر میں سی پیک فیز ٹو کو برآمدی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ مستقبل کا پالیسی ہدف ہے، موجودہ برآمدی نتیجہ نہیں۔ اس کی کامیابی توانائی اور نقل و حمل کے قابلِ اعتماد نظام، مسابقتی لاگت، مصنوعات کے معیار، عالمی منڈی تک رسائی اور نجی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منحصر ہوگی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یکم ستمبر 2026 کا تفصیلی جائزہ اجلاس، ایکشن پلان کے پہلے سال کی جانچ اور متعلقہ اداروں کو نجی شعبے، صنعت، زراعت، معدنیات، مہارت اور ٹیکنالوجی کے کام تیز کرنے کی ہدایت ہے۔ نئے مرحلے کے حقیقی نتائج کا تعین آئندہ حتمی سرمایہ کاری، منصوبہ جاتی سنگ میل، پیداوار، برآمد اور روزگار کے شفاف اعداد سے ہوگا۔




