اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2026 کی دوسری ششماہی کے لیے متعدد گیس فیلڈز کی ویل ہیڈ قیمتوں میں اضافہ نوٹیفائی کیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر کی مدت کے لیے اب تک جاری ہونے والی نظرثانیوں میں اوسط اضافہ تقریباً 8 سے 10 فیصد ہے، جبکہ باقی گیس فیلڈز سے متعلق نوٹیفکیشنز بعد میں جاری ہونے کی توقع ہے۔

ویل ہیڈ قیمت وہ نرخ ہے جو گیس کے پیداواری مقام، یعنی کنویں یا فیلڈ، پر پیدا کنندہ کو ادا کیا جاتا ہے۔ یہ گھریلو، تجارتی یا صنعتی صارف کے بل میں عائد حتمی ٹیرف سے مختلف ہے۔ صارف نرخوں میں گیس خریداری کی مجموعی لاگت، پائپ لائن و تقسیم کے اخراجات، نقصانات، ٹیکس، سرکاری پالیسی اور مختلف صارف زمروں کے درمیان سبسڈی یا کراس سبسڈی جیسے عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے تازہ ویل ہیڈ نوٹیفکیشن کو تمام صارفین کے بلوں میں فوری اور یکساں 8 سے 10 فیصد اضافے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

اوگرا گیس کی ویل ہیڈ قیمتوں کا عام طور پر ہر چھ ماہ بعد جائزہ لیتا ہے اور متعلقہ پٹرولیم پالیسی یا فیلڈ کے معاہدے کے تحت گزشتہ مدت کی اوسط عالمی تیل قیمت کو حساب میں شامل کیا جاتا ہے۔ جولائی تا دسمبر 2026 کے نرخوں کے لیے جنوری سے جون 2026 کی اوسط تیل قیمت بنیادی حوالہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق عرب لائٹ خام تیل کی اوسط پہلی ششماہی میں 92.2 ڈالر فی بیرل رہی، جو جولائی تا دسمبر 2025 کے 68.4 ڈالر فی بیرل اوسط سے تقریباً 35 فیصد زیادہ تھی۔

بروکریج ادارے ٹاپ لائن سکیورٹیز کے تجزیے کے مطابق پٹرولیم پالیسی 2012 کے تحت کام کرنے والی فیلڈز کی ویل ہیڈ قیمتوں میں 10 سے 11 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ عالمی تیل قیمت کے مقابلے میں نسبتاً کم تناسب سے اضافہ پالیسی میں موجود سلائیڈنگ اسکیل فارمولے سے منسوب کیا گیا ہے، جس کے تحت تیل کی قیمت میں پوری تبدیلی ایک ہی شرح سے گیس قیمت میں منتقل نہیں ہوتی۔ یہ 10 سے 11 فیصد شرح تجزیاتی تخمینہ ہے؛ ہر فیلڈ کی حتمی قیمت متعلقہ اوگرا نوٹیفکیشن سے طے ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض فیلڈز کے لیے حساب کی مدت جنوری تا جون کے بجائے دسمبر 2025 تا مئی 2026 اور اس کے مقابلے میں جون تا نومبر 2025 ہوسکتی ہے۔ مختلف حوالہ جاتی مدت، معاہدے اور پالیسی فارمولے کی وجہ سے انفرادی فیلڈز کی شرحِ اضافہ میں فرق آسکتا ہے۔ اسی لیے اوسط 8 سے 10 فیصد کو ہر گیس فیلڈ پر لاگو ہونے والا واحد مقررہ نرخ نہیں سمجھنا چاہیے۔

ویل ہیڈ نرخ بڑھنے سے تلاش و پیداوار کرنے والی تیل و گیس کمپنیوں کی آمدنی اور منافع پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ ٹاپ لائن نے کہا کہ متوقع اضافہ اس کی مالی پیش گوئیوں میں پہلے ہی شامل تھا۔ دوسری طرف گیس خریدنے والی سرکاری کمپنیوں اور مجموعی گیس لاگت پر اثر کا انحصار ہر فیلڈ کی پیداوار، قیمت اور معاہداتی وزن پر ہوگا۔

فی الحال مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ اوگرا نے چند فیلڈز کے لیے جولائی تا دسمبر 2026 کی بلند ویل ہیڈ قیمتیں جاری کی ہیں اور باقی نوٹیفکیشن متوقع ہیں۔ مکمل مالی اثر تمام فیلڈز کے نرخ، پیداوار کے حجم اور بعد میں ہونے والے صارف ٹیرف فیصلوں کے بعد ہی واضح ہوگا۔