کراچی: کلیکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے محکمے کی ایک نیلامی میں مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 65 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے دوران اپنے ایک اہلکار، ایک بولی دہندہ اور ایک مبینہ سہولت کار کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سرکاری بیان کے مطابق معاملہ فروری 2026 میں نیلام کیے گئے ایک لاٹ سے متعلق ہے، جسے مبینہ طور پر جعلی ادائیگی اور اجرائی دستاویزات استعمال کرکے کسٹمز کی تحویل سے نکلوایا گیا۔

محکمے کا کہنا ہے کہ 28 اگست کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع کے بعد ابتدائی انکوائری شروع کی گئی۔ تحقیقات میں الزام سامنے آیا کہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کا نیلامی لاٹ بولی کی رقم جمع کرائے بغیر جاری کردیا گیا، جبکہ تقریباً 15 لاکھ روپے، یعنی دس فیصد انکم ٹیکس، بھی ادا نہیں کیا گیا۔ یہ رقم اور طریقۂ واردات کسٹمز کی ابتدائی تفتیش کے دعوے ہیں اور ابھی کسی عدالت نے انہیں حتمی طور پر ثابت نہیں کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق ریکارڈ کی جانچ میں ایک جعلی پیمنٹ سلپ آئی ڈی، مبینہ طور پر غیر حقیقی ڈیلیوری آرڈر، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید استعمال ہونے کا شبہ پیدا ہوا۔ کسٹمز نے کہا کہ متعلقہ پی ایس آئی ڈی کا وی بوک نظام میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ ادارے نے الزام عائد کیا کہ آکشن برانچ سے وابستہ ایک کلرک نے یہ دستاویزات تیار یا استعمال کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا، تاہم مذکورہ شخص تاحال گرفتار نہیں ہوا اور اسے مبینہ مرکزی ملزم قرار دینا صرف تحقیقاتی مؤقف ہے۔

کارروائی میں آکشن برانچ کے ایک اہلکار، کامیاب بولی دہندہ اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کار سمجھے جانے والے شخص کو حراست میں لیا گیا۔ کسٹمز کا دعویٰ ہے کہ دوران تفتیش گرفتار افراد نے بعض معلومات فراہم کیں اور مفرور اہلکار کا نام لیا۔ کسی زیر حراست شخص کا پولیس یا تحقیقاتی ادارے کے سامنے بیان بذات خود عدالتی اعتراف یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا؛ ملزمان کو دفاع اور منصفانہ سماعت کا قانونی حق حاصل ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد کو 3 ستمبر کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے انہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر کسٹمز کے حوالے کیا۔ ادارے نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر نقصان پہنچائی گئی رقم کی وصولی، دیگر ممکنہ کرداروں کی شناخت اور مفرور شخص کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ایف بی آر نے اس کارروائی کو داخلی احتساب اور بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے، مگر مقدمے کا حتمی نتیجہ تفتیش، چالان اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی متعین ہوگا۔