نئی دہلی: سائیکلون ارنب نے بھارت کے مشرقی ساحل، خصوصاً آندھرا پردیش، کو شدید ہواؤں اور بارش کے ساتھ متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور گھروں و زرعی زمین کو نقصان پہنچا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد امدادی اور نقصان کے تخمینے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام نے طوفان کی آمد سے پہلے ساحلی اور نشیبی علاقوں سے بڑی تعداد میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔ تیز ہواؤں نے درخت اور بجلی کے ڈھانچے متاثر کیے، جبکہ مسلسل بارش نے بعض علاقوں میں سیلاب اور پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھا دیا۔ ابتدائی رپورٹس میں کم از کم تین ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی، جبکہ بعد کی مقامی اطلاعات میں تعداد بڑھنے کا ذکر بھی سامنے آیا؛ حتمی اعدادوشمار متعلقہ بھارتی حکام کی تازہ تصدیق کے تابع ہیں۔
طوفان ساحل عبور کرنے کے بعد بتدریج کمزور ہوا، لیکن محکمہ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے خبردار کیا کہ اس کے باقیات مزید بارش، تیز جھکڑ اور اچانک سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے انخلا کیے گئے شہریوں کی فوری واپسی کا فیصلہ مقامی حالات اور سرکاری ہدایات کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
آندھرا پردیش کے زرعی علاقوں میں فصلوں اور کھیتوں کو نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ساحلی ریاستوں میں ایسے طوفان دھان، باغات، ماہی گیری اور دیہی رہائش پر وسیع اثر ڈال سکتے ہیں، تاہم تازہ واقعے میں مالی نقصان کا مکمل تخمینہ ابھی دستیاب نہیں۔ کسی حتمی رقم یا مجموعی زرعی نقصان کا دعویٰ سرکاری سروے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور ریاستی اداروں نے پیشگی طور پر ٹیمیں تعینات کی تھیں۔ ریسکیو اہلکار سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے، بجلی اور مواصلاتی رابطے بحال کرنے اور متاثرہ آبادیوں تک خوراک و ضروری سامان پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ساحلی ماہی گیروں کو بھی خراب سمندری حالات کے دوران سمندر میں نہ جانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
خلیج بنگال میں بننے والے شدید طوفان بھارت کے مشرقی ساحل کے لیے بار بار خطرہ بنتے ہیں۔ پیشگی وارننگ اور بڑے پیمانے پر انخلا جانی نقصان کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر شدید بارش، بلند لہریں اور انفراسٹرکچر کو نقصان بحالی کے عمل کو طویل کر سکتے ہیں۔ ارنب سے ہونے والے مجموعی نقصان اور حتمی ہلاکتوں کی تصویر امدادی کارروائیوں اور سرکاری جائزوں کے مکمل ہونے کے بعد زیادہ واضح ہوگی۔

