اسلام آباد: پاکستان میں موسمیاتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے ماہرین نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، جغرافیائی معلوماتی نظام اور مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روز شرکا نے کہا کہ بہتر ڈیٹا، بروقت پیش گوئی اور اداروں کے درمیان رابطہ جانی و مالی نقصان کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان اور اقوام متحدہ کی مشترکہ بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے سب کے لیے پیشگی اطلاع، موسمیاتی کارروائی اور آفات کے خطرے کا جائزہ ہے۔ بدھ کے سیشنز میں سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی، جغرافیائی انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت کو ارلی وارننگ نظام سے جوڑنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس کے ایک حصے کا مرکزی عنوان خطرے کی شناخت سے بروقت انتباہ تک خلائی معلومات کے استعمال پر مرکوز تھا۔

شرکا نے سیلاب کے خطرے میں کمی، گلیشیائی جھیل پھٹنے کے واقعات کی پیشگی اطلاع، آبی ذخائر کی نگرانی اور متعدد نوعیت کے خطرات کا مشترکہ جائزہ لینے جیسے موضوعات پر مختلف ممالک کے تجربات پیش کیے۔ پاکستان کی جانب سے سفیر خلیل ہاشمی نے آفات کے خطرے کے جائزے سے متعلق قومی نقطہ نظر پیش کیا، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے مبشر حسین نے قومی کیٹاسٹروف رسک ماڈلنگ اقدام کی اہمیت بیان کی۔

ماہرین کے مطابق سائنسی شواہد پر مبنی منصوبہ بندی صرف ٹیکنالوجی کی دستیابی تک محدود نہیں؛ متعلقہ اداروں کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ، پیش گوئی کو مقامی سطح تک پہنچانا اور خطرے سے دوچار آبادیوں کو قابلِ عمل انتباہ دینا بھی ضروری ہے۔ سینڈائی فریم ورک کے تحت پاکستان کی پیش رفت پر ہونے والی گفتگو میں آفات سے متعلق حکمرانی اور ادارہ جاتی رابطے کو مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔

پانچ روزہ کانفرنس سپارکو کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے دفتر برائے بیرونی خلائی امور، انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن کے تعاون سے منعقد ہو رہی ہے۔ منتظمین کے مطابق تقریباً 20 ممالک سے لگ بھگ 250 شرکا، جن میں خلائی اداروں، سرکاری محکموں، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور جامعات کے نمائندے شامل ہیں، کانفرنس میں شریک ہیں۔

کانفرنس 27 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی۔ افتتاحی اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے شرکت کی، جبکہ سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف خان نے موسمیاتی نگرانی، خطرات کے جائزے اور اہم معلومات کی بروقت ترسیل میں سیٹلائٹ ایپلی کیشنز کے بڑھتے کردار پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجی کو عملی نظام میں تبدیل کرنا ہے جو آفات سے پہلے فیصلہ سازی اور ردعمل کو بہتر بنا سکے۔