اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں خطے کی بدلتی صورتحال کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، علاقائی حالات اور بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کی اہمیت اجاگر کی اور دونوں فریقوں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ساتھ یمن اور خلیجی خطے میں بھی سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔

اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں او آئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران دباؤ، دھمکی یا جبر قبول نہیں کرتا، تاہم باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی سات روزہ تجویز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تہران امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ شرائط اور تجاویز ایرانی حکومت کا مؤقف ہیں اور ان پر کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی رابطہ کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرا نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا۔ دونوں نے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل علاقائی چار فریقی فریم ورک، R-4، کے تحت تعاون پر بھی گفتگو کی۔

پاکستانی اور مصری وزرائے خارجہ نے آئندہ R-4 اجلاس میں علاقائی معاملات پر مزید ہم آہنگی کی توقع ظاہر کی۔ یہ رابطے اس وقت ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں مختلف محاذوں پر کشیدگی نے توانائی، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ سفارتی رابطوں میں عمومی طور پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے راستے کھلے رکھنے پر زور دیا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکا کو دی گئی تجاویز، آبنائے ہرمز کے ممکنہ دوبارہ کھلنے اور پابندیوں سے متعلق مطالبات ابھی مذاکراتی مؤقف کی سطح پر ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے رابطوں کو کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ فی الحال ان کا مقصد علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت، سفارتی ہم آہنگی اور کشیدگی کے سیاسی حل کی حمایت ہے۔