ماسکو/واشنگٹن: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کے لیے سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے۔ رائٹرز نے وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ تجویز نومبر میں چین کے شہر شینژن میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن اجلاس کے موقع پر عملی شکل اختیار کر سکتی ہے، لیکن فی الحال ملاقات طے نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق پیوٹن نے یہ خیال 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو میں پیش کیا تھا۔ اسی رابطے کے نتیجے میں روسی ڈیزل کی امریکی خریداری سے متعلق ایک معاہدے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے کہا کہ ماسکو سہ فریقی بات چیت کو یوکرین تنازع کے ممکنہ حل کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اخبار سے کہا کہ ممکنہ ملاقات پر گفتگو ہو رہی ہے، تاہم اجلاس یا اس کے ایجنڈے کے بارے میں ابھی کوئی واضح سمجھوتا موجود نہیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے ایسی ملاقات میں شرکت پر رضامندی نہیں دی، اگرچہ وہ اس خیال کے لیے کھلے ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس، روس اور چین کی جانب سے فوری طور پر کسی حتمی سہ فریقی اجلاس کی باقاعدہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مجوزہ ملاقات کا پس منظر امریکا اور روس کے تعلقات میں حالیہ نرمی سے جڑا ہے۔ ٹرمپ نے روس سے متعلق بعض پابندیوں کو عارضی طور پر نرم کرنے کا حکم دیا ہے، جس پر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے تنقید کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات ماسکو کو مزید حوصلہ دے سکتے ہیں۔ یہ یوکرین کا سیاسی مؤقف ہے؛ مجوزہ سربراہی اجلاس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ابھی کوئی یقینی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی تجویز ایسے ممکنہ سمجھوتے کی سمت جا سکتی ہے جسے ناقدین ماسکو کے مفادات کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ تاہم مذاکراتی شرائط، یوکرین کی شمولیت، علاقائی مطالبات اور سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق کوئی حتمی فریم ورک جاری نہیں ہوا۔ اس لیے کسی ممکنہ امن معاہدے کی تفصیلات کو طے شدہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
شینژن میں اے پیک سربراہی اجلاس 18 اور 19 نومبر کو ہونا ہے۔ اگر تینوں رہنما وہاں ملتے ہیں تو یہ یوکرین جنگ کے حوالے سے ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی، لیکن موجودہ مرحلے پر معاملہ صرف تجویز اور ابتدائی رابطوں تک محدود ہے۔
