پیرس: فرانس میں بڑھتی قیمتوں اور زندگی کے اخراجات کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ایک دن بعد اتوار کو پیرس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان نئی جھڑپیں ہوئیں۔ رائٹرز کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے کئی شہروں میں ہنگاموں میں بدل گئے تھے، جن میں ایک مظاہرین ہلاک ہوا، ہزاروں افراد گرفتار کیے گئے اور متعدد دکانوں، سرکاری عمارتوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر نقاب پوش اور پرتشدد گروہوں نے پولیس سے جھڑپیں کیں، دکانیں لوٹی گئیں اور ایک ٹاؤن ہال کو آگ لگا دی گئی۔ اتوار کو پیرس میں کشیدگی دوبارہ بڑھی اور پولیس نے بعض مقامات پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ فرانس کے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی بڑی نفری تعینات کی گئی تاکہ مزید لوٹ مار اور املاک کو نقصان سے روکا جا سکے۔
احتجاج کی بنیادی وجہ بلند قیمتیں اور گھریلو اخراجات کا دباؤ بتایا گیا ہے، تاہم بڑے عوامی مظاہروں کے اندر مختلف سیاسی اور سماجی گروہ بھی شریک رہے۔ فرانسیسی حکام نے تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اور پولیس کی جانب سے بعض پرتشدد واقعات کی ذمہ داری مخصوص شدت پسند گروہوں پر عائد کی گئی، لیکن ان سیاسی نسبتوں کو الگ الگ واقعات میں عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کی مذمت کی، جبکہ ملک میں احتجاج کے اسباب اور پولیس کے ردعمل دونوں پر سیاسی بحث جاری ہے۔ دستیاب رپورٹس میں گرفتاریوں اور زخمی اہلکاروں کے اعداد دن کے دوران تبدیل ہوتے رہے، اس لیے ابتدائی تعداد کو حتمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ تصدیق شدہ ہے کہ ملک گیر مظاہرے بڑے پیمانے پر بدامنی میں تبدیل ہوئے، ایک مظاہرین کی ہلاکت رپورٹ ہوئی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔
فرانس کی حکومت کو اب ایک طرف امن و امان بحال رکھنے اور دوسری طرف مہنگائی اور عوامی ناراضی کے سیاسی و معاشی اسباب سے نمٹنے کا دباؤ درپیش ہے۔ اتوار کی تازہ جھڑپوں سے ظاہر ہوا کہ ہفتے کی شدید بدامنی کے بعد صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی تھی۔ آئندہ سرکاری اعداد و تحقیقات سے جانی و مالی نقصان، گرفتاریوں اور مختلف واقعات کی ذمہ داری کی زیادہ واضح تصویر سامنے آئے گی۔

