مسلسل اپ ڈیٹس

فرانس: مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج

فرانس میں بڑھتی لاگتِ زندگی اور مہنگائی کے خلاف 17 اکتوبر کو ملک گیر احتجاج شروع ہوا۔ ابتدائی رپورٹوں کے مطابق پیرس میں مرکزی مظاہرے کے دوران حکام نے مختلف مقامات پر پابندیاں عائد کیں اور صبح کے وقت تقریباً 60 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بعض شہروں بشمول مارسیل میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں؛ مارسیل میں کچھ مظاہرین نے پولیس عمارت پر حملہ کیا اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔ پیرس میں نقاب پوش مظاہرین کی طرف سے اشیا پھینکنے اور ایک ٹی وی ادارے کے دفتر کی کھڑکیاں ٹوٹنے کی اطلاعات آئیں، جبکہ ملک بھر میں متعدد اجتماعات پُرامن بھی رہے۔ منتظمین (یوں لو ویسٹ تحریک اور نوجوان گروپ) نے اساتذہ، طلبہ، مزدور، پنشنرز اور کسانوں کو شرکت کی دعوت دی؛ ان کے مطابق پورے ملک میں 600 سے زائد مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حکومت نے سرکاری عمارتوں، شانزے لیزے اور اہم ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف مظاہروں پر پابندیاں عائد کیں اور شناختی چیکس کیے گئے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہرین سے پُرسکون رہنے اور قانون و املاک کے احترام کی اپیل کی؛ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب فرانس میں اپریل و مئی میں متوقع صدارتی انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول حساس ہے، اور حالیہ ہفتوں میں طلبہ کی مظاہروں نے ماحول کو مزید متحرک کیا ہے۔

1 خبریںآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے