پیرس: فرانس میں بڑھتی ہوئی لاگتِ زندگی اور مہنگائی کے خلاف ہفتے کو ملک گیر احتجاج شروع ہوگیا، جس کے ابتدائی مرحلے میں پیرس میں پولیس نے درجنوں افراد کو حراست میں لیا جبکہ مارسیل سمیت بعض شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت ہو رہا ہے جب فرانس اگلے سال صدر ایمانوئل میکرون کے جانشین کے انتخاب کی تیاری کر رہا ہے اور معاشی دباؤ کے ساتھ طلبہ کے حالیہ مظاہروں نے سیاسی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق پیرس میں مرکزی مظاہرہ ریپبلک اسکوائر سے شروع ہونا تھا۔ حکام نے سرکاری عمارتوں، شانزے لیزے اور اہم ریلوے اسٹیشنوں کے اطراف مظاہروں پر پابندیاں عائد کیں، جبکہ صبح کے وقت تقریباً 60 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے بعض مقامات پر شناختی دستاویزات بھی چیک کیں۔
جنوبی شہر مارسیل میں کچھ مظاہرین نے ایک پولیس عمارت پر حملہ کیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران آنسو گیس استعمال کی گئی۔ مظاہرین نے سڑک پر کوڑے دان اور اسکوٹر رکھ کر راستہ عارضی طور پر بند کیا، جسے بعد میں پولیس نے کھلوا دیا۔ پیرس میں بعض نقاب پوش مظاہرین نے اشیا پھینکیں اور ایک ٹی وی ادارے کے دفتر کی کھڑکیاں توڑنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری تمام مظاہرین پر عائد نہیں کی گئی اور ملک بھر میں متعدد اجتماعات پُرامن بھی رہے۔
احتجاج کی اپیل فرانس کی یلو ویسٹ تحریک اور نوجوانوں سے وابستہ گروپوں نے کی ہے۔ منتظمین نے اساتذہ، طلبہ، مزدوروں، پنشنرز اور کسانوں سمیت مختلف طبقات کو شرکت کی دعوت دی۔ منتظمین کی ویب سائٹ کے مطابق ملک بھر میں 600 سے زیادہ مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں فرانس کے متعدد ہائی اسکولوں میں طلبہ نے تعلیمی سہولیات بہتر بنانے کے مطالبے پر احتجاج اور ناکہ بندیاں کی ہیں، جن میں بعض مقامات پر پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مظاہروں سے ایک روز قبل شہریوں سے پُرسکون رہنے اور قانون و املاک کے احترام کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا حق لوگوں اور املاک کے احترام کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ فرانس میں صدارتی انتخابات اپریل اور مئی میں دو مراحل میں متوقع ہیں، اس لیے موجودہ احتجاج کو عوامی معاشی بے چینی اور سیاسی رجحانات کا اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ شائع ہونے والے ایک سروے میں تقریباً 45 فیصد فرانسیسی شہریوں نے لاگتِ زندگی اور مہنگائی پر تشویش ظاہر کی۔ فرانس کی بائیں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں بھی حالیہ احتجاج اور پولیس کے کردار پر مختلف مؤقف اختیار کر رہی ہیں، جس سے یہ معاملہ انتخابی بحث کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
