روم: ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ پوپ لیو چودھویں پھیپھڑے کے کینسر کی سرجری کے بعد روم کے جیمیلی ہسپتال سے فارغ ہو کر ویٹیکن واپس جائیں گے۔ ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ، سینے کے ایکسرے اور مجموعی طبی حالت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے لیے موزوں قرار دیا۔
پوپ لیو، جن کی عمر 71 برس ہے، منگل سے جیمیلی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ڈاکٹروں نے ان کے دائیں پھیپھڑے کا ایک حصہ نکال کر سرطان زدہ رسولی ہٹائی تھی۔ ویٹیکن کے مطابق ان کی صحت یابی معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم مزید ٹیسٹوں کے نتائج کی بنیاد پر آئندہ علاج یا طبی نگرانی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ویٹیکن نے کہا کہ پوپ ہفتے کی دوپہر ہسپتال سے نکل کر واپس ویٹیکن جائیں گے اور اتوار کو پاپائی اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے اینجلس دعا پڑھیں گے۔ عام طور پر یہ دعا سینٹ پیٹرز اسکوائر کے سامنے اپوسٹولک پیلس کی کھڑکی سے ادا کی جاتی ہے۔ ہسپتال میں قیام کے دوران بھی پوپ نے اپنی مذہبی مصروفیات کا ایک حصہ جاری رکھا اور ویٹیکن کے پریس دفتر کے مطابق ہفتے کو انہوں نے ہسپتال کی دسویں منزل پر واقع کمرے میں عبادت کی۔
پوپ نے گزشتہ اتوار سینٹ پیٹرز اسکوائر میں عوام کو بتایا تھا کہ معمول کے طبی معائنے کے دوران ایک رسولی سامنے آئی ہے جسے ڈاکٹروں نے نکالنے کا مشورہ دیا۔ سرجری کے بعد ان کی صحت کے بارے میں ویٹیکن اور دنیا بھر کے کیتھولک حلقوں میں توجہ مرکوز رہی۔ ویٹیکن کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1.4 ارب کیتھولک مسیحی ہیں، اس لیے پوپ کی صحت سے متعلق پیش رفت عالمی سطح پر اہم مذہبی خبر سمجھی جا رہی ہے۔
صحت یابی کے دوران پوپ نے کچھ سرکاری کام بھی دوبارہ شروع کیے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے جمعے کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر بات کی اور یوکرین کے روسی زیر قبضہ شہر اولیشکی میں جنگ بندی کی اپیل کی۔ تاہم نومبر میں یوراگوئے، ارجنٹائن اور پیرو کے مجوزہ دورے کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ واضح نہیں ہے اور امکان ہے کہ اس کا انحصار ڈاکٹروں کی سفارشات پر ہوگا۔
ویٹیکن نے پوپ کی تمام رسمی ملاقاتیں 20 اکتوبر تک منسوخ کر رکھی ہیں۔ ان کی ہسپتال سے واپسی صحت یابی میں ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن سرطان سے متعلق مزید طبی نتائج اور آئندہ علاج کی ضرورت کے بارے میں حتمی معلومات ڈاکٹروں کی جانب سے بعد میں سامنے آئیں گی۔
