قاہرہ: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ وہ اپنی موجودہ صدارتی مدت 2030 میں مکمل ہونے کے بعد عہدے پر برقرار رہنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اس مقصد کے لیے آئین میں مزید تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہفتے کو مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت میں مصری ملٹری اکیڈمی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق قیاس آرائیوں پر واضح مؤقف اختیار کیا۔

السیسی نے کہا کہ 2030 تک کا عرصہ ان کی بطور صدر موجودہ مدت کا اختتام ہوگا اور یہ معاملہ ان کے بقول طے شدہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصری آئین کو اس مقصد کے لیے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر میں آئندہ سیاسی انتقالِ اقتدار اور ممکنہ آئینی تبدیلیوں کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث جاری رہی ہے۔

عبدالفتاح السیسی سابق فوجی سربراہ ہیں اور 2014 میں مصر کے صدر بنے تھے۔ مصر کا 2014 کا آئین ابتدا میں صدر کے لیے چار چار سال کی دو مدتوں کی حد مقرر کرتا تھا، تاہم 2019 میں منظور ہونے والی آئینی ترامیم کے ذریعے صدارتی مدت چار سے بڑھا کر چھ سال کر دی گئی اور عبوری دفعات نے السیسی کو مزید ایک مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا راستہ دیا۔ وہ 2023 کے صدارتی انتخاب میں دوبارہ منتخب ہوئے اور ان کی موجودہ چھ سالہ مدت 2030 میں ختم ہونی ہے۔

صدر السیسی نے تقریب میں کہا کہ 2030 تک کے عرصے کو نئی نسل کی قیادت تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ملٹری اکیڈمی میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مستقبل کے سرکاری عہدیداروں، وزرا اور ممکنہ سیاسی رہنماؤں کو ریاستی امور اور قیادت سے متعلق تربیت دی جا رہی ہے۔

السیسی کے دورِ حکومت میں مصر نے بڑے سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، جن میں نئے انتظامی دارالحکومت سمیت کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شامل ہیں۔ ناقدین ان منصوبوں کے مالی بوجھ اور قرضوں میں اضافے پر سوال اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ حکومت انہیں طویل مدتی ترقی اور ریاستی جدیدکاری کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں سیاسی مخالفین، سول سوسائٹی اور آزادی اظہار سے متعلق مصری حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں؛ مصری حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔

تازہ بیان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ صدر السیسی کی جانب سے 2030 کے بعد اقتدار میں رہنے کے امکان پر براہ راست وضاحت ہے۔ تاہم آئندہ سیاسی عمل، صدارتی امیدواروں اور اقتدار کی منتقلی کی عملی شکل آنے والے برسوں میں مصر کے آئینی اور انتخابی نظام کے تحت سامنے آئے گی۔