نئی دہلی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے کو جمعہ کو حراست میں لیے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ کیا کہ دیپکے کی گرفتاری امن عامہ میں ممکنہ خلل روکنے کے لیے کی گئی اور انہیں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جانا تھا۔ دہلی پولیس نے رائٹرز کی فوری درخواست پر تبصرہ نہیں کیا، اس لیے گرفتاری کی قانونی تفصیلات بنیادی طور پر بھارتی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔

دیپکے کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دہلی میں ایک ریلی کی تیاری جاری تھی۔ مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے بھارتی پرچم اٹھا کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی، حزب اختلاف کے گروپ اور طلبہ تنظیمیں رواں ماہ تقریباً روزانہ احتجاج کرتی رہی ہیں۔ ان کا اعتراض ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی پر ہے، جس کے بارے میں وہ الزام لگاتے ہیں کہ اس سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف ہوئے۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ بی جے پی نے بھی حزب اختلاف پر انتخابی عمل کی قانونی حیثیت پر بلاجواز سوال اٹھا کر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ متضاد سیاسی دعوے ہیں اور ان کی قانونی و انتخابی جانچ متعلقہ بھارتی اداروں اور عدالتوں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

طلبہ کارکن نیہا بورا کو بھی جمعہ کو مرکزی دہلی پہنچنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، تاہم انہیں ہفتے کو رہا کر دیا گیا۔ دیپکے نے اس سے قبل اپنے دو ساتھی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔ پولیس نے مبینہ طور پر انہیں مظاہرہ نہ کرنے کی تنبیہ بھی کی تھی۔

رائٹرز کے مطابق یہ تحریک حالیہ مہینوں میں بھارتی حکومت کے لیے نمایاں سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنی ہے۔ اس سال اس تحریک کے حامیوں کے طویل دھرنے کے بعد امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا تھا۔ دیپکے کی تازہ گرفتاری سے انتخابی فہرستوں، احتجاج کے حق اور امن عامہ کے اختیارات سے متعلق سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔