اوٹاوا: کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ پر لگنے والی بڑی آگ کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم مارک کارنی نے اتوار کو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے امن کے زمانے میں کینیڈا کی سرزمین پر مسلح افواج کو پیش آنے والے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا۔
اے ایف پی کے مطابق آگ ہفتے کی سہ پہر تقریباً چار بجے فوجی اڈے کے تربیتی علاقے میں لگی۔ کینیڈا کے محکمہ قومی دفاع نے واقعے کی بنیادی تفصیل جاری کی، تاہم وزیراعظم اور وزیر دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ آگ کس وجہ سے لگی۔ اس لیے واقعے کی وجہ کے بارے میں کسی حادثے، تکنیکی خرابی یا دیگر امکان کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
مقامی بلدیاتی حکام نے بتایا کہ تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ بعد میں حکام نے کہا کہ آگ کو قابو میں رکھنے کی حالت حاصل کر لی گئی ہے، تاہم فوجی اور سول فائر فائٹنگ عملہ رات بھر نگرانی اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ وزیراعظم کارنی نے امدادی کارکنوں کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد جاری رکھی جائے گی۔
وین رائٹ کے مقامی طبی مراکز پر مریضوں کا دباؤ بڑھنے کے بعد متعدد زخمیوں کو ایڈمنٹن کی جانب منتقل کیا گیا۔ ایک ڈاکٹر نے کینیڈین براڈکاسٹر سی بی سی کو بتایا کہ مقامی صحت کی سہولیات بڑی تعداد میں مریض آنے کے باعث شدید دباؤ میں تھیں۔ سرکاری حکام نے زخمیوں کی مکمل تعداد یا ہر فرد کی حالت کی تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی۔
وین رائٹ بیس ایڈمنٹن سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور کینیڈین مسلح افواج کے بڑے تربیتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں نیٹو ممالک کے فوجی اہلکاروں کی شمولیت سے تربیتی مشقیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ واقعے کے وقت کوئی مخصوص مشق جاری تھی یا ہلاک و زخمی ہونے والے تمام افراد کس یونٹ سے تعلق رکھتے تھے۔
آگ کے باعث البرٹا میں ایک الگ سیاسی عمل کے لیے وین رائٹ کا پیشگی پولنگ اسٹیشن بھی بند کرنا پڑا۔ حکام نے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید معلومات تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو اطلاع دینے کے مراحل مکمل ہونے کے بعد فراہم کی جائیں گی۔ فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ چار فوجیوں کی ہلاکت، درجنوں زخمیوں اور بڑے پیمانے کی آگ تک محدود ہے، جبکہ سبب کی تحقیقات جاری ہیں۔

