میکسیکو کے حکام نے شمالی سرحدی ریاست چیہواہوا کے سابق اٹارنی جنرل سیزر خاؤریگی کو قومی سلامتی سے متعلق غداری کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق میکسیکو کی اٹارنی جنرل ارنسٹینا گوڈوئے نے بتایا کہ کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد ایک وفاقی جج نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ یہ کارروائی ایک ایسے منشیات مخالف چھاپے سے متعلق ہے جس میں مبینہ طور پر غیر ملکی اہلکاروں نے میکسیکن قانون کے تحت مطلوبہ اجازت کے بغیر حصہ لیا تھا۔
استغاثہ کا الزام ہے کہ خاؤریگی نے اپریل میں چیہواہوا میں ایک مشتبہ منشیات لیبارٹری کے خلاف کارروائی میں امریکی اہلکاروں کی شرکت کی اجازت دی۔ میکسیکن حکام کے مطابق قومی سلامتی سے متعلق بعض کارروائیاں صرف ملکی سکیورٹی فورسز کے لیے مخصوص ہیں اور غیر ملکی اہلکاروں کی براہ راست شرکت کے لیے قانونی حدود موجود ہیں۔ گوڈوئے نے کہا کہ تحقیقات میں ایسے طرز عمل کا امکان سامنے آیا جو قومی سلامتی کے معاملات میں غداری کے جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
یہ مرحلہ الزام اور تحقیقات کا ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔ خاؤریگی پر جرم ثابت نہیں ہوا اور انہیں قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔ رائٹرز کے مطابق ان سے فوری طور پر مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا، جبکہ امریکی سفارت خانے نے ہفتے کو تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ میکسیکن حکام نے فوجداری کارروائی کے رواج کے مطابق سرکاری بیان میں ملزم کا نام مختصر انداز میں پیش کیا۔
یہ معاملہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون کی حساس حدود کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ ان کی حکومت منظم جرائم کے خلاف امریکی انٹیلی جنس معلومات اور دوطرفہ تعاون کا خیر مقدم کرتی ہے، لیکن امریکی ایجنٹوں یا فورسز کی میکسیکن سرزمین پر براہ راست آپریشنل شرکت کی اجازت نہیں دیتی۔
رائٹرز کے مطابق اپریل میں امریکہ نے میکسیکو سٹی میں اپنے سفارت خانے کے دو ملازمین کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جبکہ معاملے سے واقف ذرائع نے انہیں سی آئی اے افسر قرار دیا تھا جو انسداد منشیات کوششوں سے وابستہ تھے۔ تازہ گرفتاری کے بعد عدالت میں استغاثہ کو اپنے الزامات اور شواہد ثابت کرنا ہوں گے۔ اس لیے رپورٹ میں خاؤریگی کے خلاف دعووں کو الزامات کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ ثابت شدہ جرم کے طور پر۔

