واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب کے لیے باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں نیتن یاہو کو مضبوط اتحادی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی ووٹروں سے ان کی حمایت کی اپیل کی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں نیتن یاہو کی قیادت کی تعریف کی اور فروری میں ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ خطے میں جاری تنازع نے توانائی کی عالمی منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی معیشتوں پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکی صدر کا انتخابی حمایت کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں سیاسی مقابلہ سخت ہے اور مختلف جائزوں میں کسی ایک امیدوار یا اتحاد کے لیے واضح اکثریت کا راستہ سامنے نہیں آ رہا۔
اسرائیلی نظام میں وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ سے نہیں ہوتا بلکہ پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنے والی جماعتیں حکومت سازی کے لیے اتحاد قائم کرتی ہیں۔ اس لیے کسی رہنما کی مقبولیت کے ساتھ یہ بھی اہم ہوتا ہے کہ اس کی جماعت اور ممکنہ اتحادی کتنی نشستیں حاصل کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کی لیکود جماعت دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کی مرکزی قوت ہے، تاہم انتخابات کے بعد حکومت سازی کا دارومدار پارلیمانی اعداد و شمار پر ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیل میں ٹرمپ کے بارے میں عوامی رائے میں ایران سے متعلق پالیسی اختلافات کے دوران تبدیلی آئی ہے، اس لیے امریکی صدر کی حمایت نیتن یاہو کو کتنا انتخابی فائدہ دے گی، یہ غیر یقینی ہے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے اعلان کے بعد ان کا شکریہ ادا کیا اور مشترکہ سیاسی و سکیورٹی اہداف جاری رکھنے کا پیغام دیا۔
یہ اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد پہلا قومی انتخاب ہوگا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی کی اور لبنان و ایران میں بھی حملے کیے۔ ان جنگوں، داخلی سلامتی، معیشت اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے سوالات انتخابی بحث کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
ٹرمپ ماضی میں بھی دیگر ممالک کے انتخابات میں مخصوص امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتے رہے ہیں، جو امریکی صدور کی روایتی محتاط روش سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ان کی حمایت سیاسی توثیق ہے، انتخابی نتیجہ نہیں؛ 27 اکتوبر کے ووٹ اور بعد کی اتحادی مذاکرات ہی طے کریں گے کہ اسرائیل کی اگلی حکومت کس کی قیادت میں تشکیل پاتی ہے۔

