برازیل کے صدارتی انتخاب کے فیصلہ کن دوسرے مرحلے سے ایک ہفتہ قبل موجودہ صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو اپنے پہلے براہ راست ٹیلی ویژن مباحثے کے لیے تیار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 25 اکتوبر کو ہونے والے رن آف سے پہلے دونوں امیدواروں کے حامیوں نے اتوار کو بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں اور انتخابی مہم آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔
ساؤ پاؤلو میں بولسونارو کے حامی برازیل کے قومی رنگوں پیلے، سبز اور نیلے لباس میں پاؤلیستا ایونیو پر جمع ہوئے، جبکہ برازیلیا میں لولا کے ورکرز پارٹی کے حامی سرخ رنگ میں سرکاری عمارتوں کے مرکزی علاقے میں پہنچے۔ ریو ڈی جنیرو میں طلبہ کے ایک گروپ نے بولسونارو کے خلاف مظاہرہ بھی کیا۔ یہ اجتماعات دونوں مہمات کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
رائٹرز کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے۔ 4 اکتوبر کے پہلے مرحلے میں فلاویو بولسونارو نے لولا کے مقابلے میں تقریباً دو فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی۔ دونوں امیدوار ان تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ اہل ووٹرز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں ووٹ نہیں ڈالا تھا۔ یہ تعداد مجموعی اہل ووٹرز کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر ہے۔
مباحثہ ساؤ پاؤلو میں براڈکاسٹر بینڈ پر نشر ہونا ہے۔ پہلے مرحلے کا آخری طے شدہ مباحثہ اس وقت منسوخ ہوگیا تھا جب دونوں بڑے امیدواروں نے شرکت سے دستبرداری اختیار کی۔ برازیل میں فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد ٹی وی مباحثے انتخابی سیاست کی نمایاں روایت رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اہم امیدواروں کی غیر حاضری سے ان کی سیاسی اہمیت میں کچھ کمی آئی ہے۔
انتخابی مہم کے آخری دنوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مبینہ غیر مساوی برتاؤ پر بھی تنازع پیدا ہوا ہے۔ لولا کے اتحاد نے الزام لگایا کہ ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ اور پوسٹس کو محدود کیا گیا جبکہ بولسونارو کے مواد کو زیادہ نمایاں کیا گیا۔ میٹا نے سیاسی جانبداری کی تردید کرتے ہوئے مسائل کو عالمی تکنیکی خرابیوں سے منسلک کیا ہے۔ یہ الزام ثابت شدہ نتیجہ نہیں اور کمپنی نے واضح طور پر اس کی نفی کی ہے۔ رن آف کا نتیجہ برازیل کی اگلی حکومت اور پارلیمانی تعاون کی سمت کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔

