کیف/واشنگٹن: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکا نے مختصر تعطل کے بعد یوکرین کے ساتھ اہم انٹیلی جنس شیئرنگ دوبارہ شروع کر دی ہے، جس پر کیف روسی بیلسٹک میزائل حملوں کی پیشگی نشاندہی کے لیے بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ رائٹرز کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے NBC کے پروگرام Meet the Press میں کہا کہ معلومات کی فراہمی کچھ عرصے کے لیے رکی تھی لیکن اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق امریکی انٹیلی جنس تیز رفتار روسی بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور فضائی دفاعی ردعمل کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ تعطل کے دوران بعض روسی حملے ایسے ہوئے جن کی پیشگی اطلاع یوکرین کو نہیں ملی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے کہہ چکے تھے کہ واشنگٹن انٹیلی جنس فراہم کرتا رہا ہے۔ ان مختلف بیانات سے تعطل کی مدت اور دائرہ پوری طرح واضح نہیں، تاہم زیلنسکی نے اتوار کو تصدیق کی کہ موجودہ وقت میں نظام دوبارہ کام کر رہا ہے۔

زیلنسکی نے امریکی فیصلوں کے بعض دوسرے پہلوؤں پر بھی تنقید کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ روس کے ساتھ واشنگٹن کی پالیسی میں ایسی تبدیلیاں جو ماسکو کو فائدہ پہنچائیں، یوکرین کے دفاعی مفادات کو نقصان دے سکتی ہیں۔ یہ یوکرینی صدر کا سیاسی اور سکیورٹی مؤقف ہے؛ امریکی انتظامیہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اپنی پالیسی کو اسی تناظر میں بیان کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یوکرین کو انٹیلی جنس اور گولہ بارود سمیت منفرد نوعیت کی امریکی مدد کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے یوکرین کو باضابطہ اتحادی قرار دینے کے سوال پر براہ راست جواب نہیں دیا۔ انہوں نے جنگ کے مذاکراتی خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور ممکنہ نئے امن اجلاس کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کی بحالی فوری دفاعی تعاون کی اہم پیش رفت ہے، مگر امریکا اور یوکرین کے درمیان وسیع تر تعلقات، جنگی حکمت عملی اور روس کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ آئندہ سفارتی ملاقاتیں اس تعاون کی سمت مزید واضح کر سکتی ہیں۔