قاہرہ/ریاض: مصر نے یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ 18 اکتوبر کی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے سعودی عرب کے خلاف بڑھتے حملوں کے تناظر میں اپنی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ خطے میں حالیہ دنوں کے دوران فوجی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی جب یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے دوران سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ بڑھا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حوثی کنٹرول والے صعدہ صوبے میں ایک فضائی حملے میں کم از کم نو شہری ہلاک اور 19 زخمی ہوئے، جبکہ حوثی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی۔ سعودی حکام کی جانب سے ہر الزام کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی، اس لیے صعدہ حملے کی ذمہ داری کو حوثی حکام کے دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔

اسی وسیع تر کشیدگی میں سعودی سرحدی علاقے کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر گرنے سے دو پائلٹس کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی۔ حوثیوں نے اس واقعے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا، جبکہ حادثے کی وجہ کے بارے میں سعودی جانب سے فوری طور پر واضح حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ہیلی کاپٹر واقعے کو حوثی دعوے اور زیر تفتیش حادثے کے طور پر الگ رکھنا ضروری ہے۔

مصر اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون طویل عرصے سے علاقائی سلامتی کے معاملات میں اہم رہا ہے۔ قاہرہ کی تازہ آمادگی اس بات کا اشارہ ہے کہ یمن سے پھیلتی کشیدگی اب وسیع تر عرب سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم کسی مصری فوجی تعیناتی یا عملی جنگی شمولیت کی حتمی تفصیلات دستیاب رپورٹس میں تصدیق شدہ نہیں؛ اس مرحلے پر بنیادی پیش رفت سیاسی حمایت اور ضرورت پڑنے پر دفاعی تعاون کی آمادگی ہے۔

خطے میں ایران، امریکا، سعودی عرب اور حوثیوں سے متعلق متعدد متوازی تنازعات نے توانائی منڈیوں، فضائی سفر اور علاقائی تجارت پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔ مصر کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کا اعلان اسی پیچیدہ ماحول میں سامنے آیا ہے۔ آئندہ کسی عملی فوجی تعاون کی نوعیت، پارلیمانی منظوری یا مشترکہ دفاعی انتظامات کی تفصیلات متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔