نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو کشیدگی کم کرنے کے لیے بہترین دستیاب راستہ قرار دیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق دونوں عہدیداروں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، علاقائی سلامتی اور سفارتی راستوں کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ڈار اور گروسی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جون 2026 میں طے پانے والے اسلام آباد ایم او یو کا عملی نفاذ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ رافیل گروسی نے ضرورت پیش آنے کی صورت میں آئی اے ای اے کی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ آئی اے ای اے کا کردار جوہری نگرانی، تصدیق اور تکنیکی امور سے متعلق ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ معاونت کی نوعیت متعلقہ فریقوں کے اتفاق اور ایجنسی کے مینڈیٹ کے دائرے میں طے ہوگی۔
اسحاق ڈار نے گفتگو میں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام کے لیے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی امن و ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ گفتگو کے دوران گروسی کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے امیدوار کے طور پر مہم کا ذکر بھی ہوا اور ڈار نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد ایم او یو جون میں امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی روکنے اور بات چیت کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ وزارتِ خارجہ کی سابقہ بریفنگز کے مطابق پاکستان اور قطر نے اس فریم ورک کے بعد اعلیٰ سطحی رابطہ کاری اور تکنیکی مذاکرات کے لیے بھی کوششیں کیں۔ بعد کے مہینوں میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے باوجود پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت بدستور ایک قابلِ عمل سفارتی بنیاد ہے اور فریقین کو اس پر واپس آنا چاہیے۔
تازہ رابطے میں کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں ہوا اور نہ ہی آئی اے ای اے نے کسی مخصوص تکنیکی مشن کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔ مصدقہ پیش رفت یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور آئی اے ای اے کے سربراہ نے موجودہ علاقائی صورتحال میں اسلام آباد ایم او یو کے نفاذ کی حمایت کی اور گروسی نے ممکنہ تکنیکی مدد کی پیشکش کی۔ اس لیے اس رابطے کو نئی امن ڈیل کے بجائے موجودہ سفارتی فریم ورک کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری مشاورت کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

