وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر وزیراعلیٰ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ڈان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شیر افضل خان مروت کی درخواست کی سماعت کی اور اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کو بھی آئینی تشریح سے متعلق قانونی تقاضوں کے تحت نوٹس دیا۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت اکتوبر 2026 کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

درخواست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اکتوبر 2025 میں دیے گئے استعفوں کی قانونی حیثیت کو بنیادی نکتہ بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ گنڈاپور کے استعفے مبینہ طور پر ایسے سیاسی حکم کے نتیجے میں دیے گئے جسے وہ آئینی طور پر مؤثر نہیں سمجھتے۔ مروت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بعد میں سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی اور تقرری اسی عمل کا تسلسل تھی، اس لیے عدالت ان اقدامات کا آئینی جائزہ لے۔ یہ تمام نکات درخواست گزار کے قانونی دعوے ہیں اور عدالت نے اب تک ان کی صحت یا حتمی قانونی نتیجے کا فیصلہ نہیں کیا۔

عدالت کے سامنے درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفوں کو غیر مؤثر قرار دیا جائے، ان کی سبکدوشی کے نتیجے میں کیے گئے اقدامات کو کالعدم کیا جائے اور سہیل آفریدی کی تقرری سے متعلق 15 اکتوبر 2025 کی کارروائی کا جائزہ لیا جائے۔ درخواست گزار نے آئین کی مختلف دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کسی نااہل یا سزا یافتہ شخص کی سیاسی ہدایت منتخب صوبائی انتظامیہ کی تبدیلی پر کس حد تک قانونی اثر ڈال سکتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اس مرحلے پر صرف فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں اور درخواست کے میرٹ پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ اٹارنی جنرل کو بلانے کا مقصد بھی اس آئینی تنازع میں وفاقی قانونی مؤقف سننا ہے۔ مقدمہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی تشکیل، وزیراعلیٰ کے استعفے کی رضاکارانہ حیثیت اور سیاسی ہدایات کے آئینی اثر جیسے سوالات کو چھوتا ہے، اس لیے آئندہ سماعت میں فریقین کے دلائل اور عدالت کی جانب سے طے کیے جانے والے قانونی سوالات اہم ہوں گے۔ جب تک عدالت فیصلہ نہیں دیتی، درخواست میں عائد الزامات اور قانونی مؤقف کو ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔