نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ایک اجلاس میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام، علاقائی انضمام اور معاشی خوشحالی کا خواہاں ہے، لیکن طالبان حکومت سے اسلام آباد کی بنیادی توقع یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ان کا بیان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ سکیورٹی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا۔
ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط اور خطے میں رابطہ کاری کے امکانات کو اہم سمجھتا ہے، تاہم دہشت گردی کا مسئلہ دوطرفہ تعلقات میں بنیادی رکاوٹ بن چکا ہے۔ پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح عناصر افغانستان میں پناہ گاہیں استعمال کرکے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغان طالبان حکام اس الزام کی تردید کرتے یا کہتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جا رہی۔
وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سامنے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ علاقائی خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مربوط کارروائی ضروری ہے۔ انہوں نے افغانستان کو علاقائی تجارت، رابطہ کاری اور ترقی کے منصوبوں میں شامل کرنے کی حمایت بھی کی، لیکن اسے امن و سلامتی اور ذمہ دارانہ ریاستی رویے کے ساتھ جوڑا۔
یہ بیان پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی اور ثالثی مذاکرات سے متعلق الگ سفارتی پیش رفت ہے۔ جنگ بندی فوری سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کا انتظام ہے، جبکہ ڈار کا شنگھائی تعاون تنظیم میں بیان پاکستان کی وسیع علاقائی پالیسی اور طالبان حکومت سے سکیورٹی مطالبے کی وضاحت کرتا ہے۔ دونوں واقعات ایک ہی دوطرفہ بحران سے متعلق ہیں لیکن ان کا بنیادی اقدام اور فورم مختلف ہے۔
پاکستان نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کو تنہا کرنے کے بجائے ایک پرامن، مستحکم اور معاشی طور پر منسلک ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ اس پالیسی کے عملی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات اور سرحدی سلامتی کے مسائل پر دونوں فریق قابل تصدیق اور پائیدار انتظامات تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ موجودہ بیان کسی نئے معاہدے کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی سرکاری سفارتی توقعات کا اعادہ ہے۔
