راولپنڈی کے جوڈیشل کمپلیکس اور ضلعی عدالتوں میں سول جج ملک علی میران پر ان کے چیمبر میں مبینہ حملے کے بعد وکلا، وکلا کے کلرکس اور عدالتی عملے کے الگ الگ احتجاج کے باعث عدالتی کارروائیاں شدید متاثر ہوئیں۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلا نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا، جبکہ عدالتی عملے نے بھی واقعے کے خلاف کام روک کر احتجاج کیا۔
رپورٹ کے مطابق احتجاجی صورتحال کے باعث جوڈیشل کمپلیکس اور پرانی ضلعی عدالتوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی اور اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ عمارتوں میں آنے والے افراد کی مرکزی داخلی راستوں پر سخت جانچ کی گئی تاکہ وکلا، عملے اور دیگر گروہوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔
عدالتی عملے اور وکلا کے کلرکس نے جوڈیشل کمپلیکس کے اندر الگ الگ ریلیاں نکالیں۔ عدالتی ملازمین نے جج پر مبینہ حملے کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ وکلا کے معاونین اور کلرکس نے اپنے موقف کے حق میں احتجاج کیا اور درج مقدمے کے بعض پہلوؤں پر اعتراض اٹھایا۔ چونکہ واقعے سے متعلق ذمہ داری اور الزامات قانونی کارروائی کے تابع ہیں، اس لیے حملے کی تفصیلات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
وکلا کی ہڑتال اور عدالتی عملے کے احتجاج سے مقدمات کی سماعت، سائلین کی پیشی اور روزمرہ عدالتی کام متاثر ہوا۔ ضلعی عدالتوں میں بڑی تعداد میں مقدمات روزانہ مقرر ہوتے ہیں، اس لیے مکمل یا جزوی بائیکاٹ کا براہ راست اثر عام شہریوں، زیر سماعت مقدمات اور قانونی نمائندوں پر پڑتا ہے۔
واقعہ عدالتی اداروں کے اندر سکیورٹی اور مختلف قانونی و انتظامی حلقوں کے درمیان تنازعات کے حل کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ پولیس اور متعلقہ حکام کی تحقیقات کے بعد ہی مبینہ حملے کی مکمل ذمہ داری اور قانونی حیثیت واضح ہوگی۔ موجودہ پیش رفت کا تصدیق شدہ حصہ یہ ہے کہ واقعے کے ردعمل میں وکلا اور عدالتی عملے نے احتجاج کیا اور راولپنڈی کی ضلعی عدالتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
