پنجاب حکومت نے صوبے کے 256 سرکاری ہائر سیکنڈری اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ منصوبے کا مقصد تعلیمی اداروں کے بجلی کے بل کم کرنا، لوڈشیڈنگ یا گرڈ میں تعطل کے دوران بنیادی سہولتیں برقرار رکھنا اور سرکاری عمارتوں میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو بڑھانا ہے۔ متعلقہ محکموں کو اسکولوں کی توانائی ضروریات اور سولر سسٹم کی تکنیکی صلاحیت کے مطابق عمل درآمد کی تیاری کی ہدایت دی گئی ہے۔
سرکاری اسکولوں میں بجلی کی مستقل دستیابی کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریوں، پنکھوں، روشنی، پانی کی فراہمی اور انتظامی کاموں کے لیے اہم ہے۔ گرمی کے مہینوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے تعلیمی ماحول پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ سولرائزیشن کے ذریعے دن کے اوقات میں گرڈ بجلی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ مناسب بیٹری یا نیٹ میٹرنگ انتظام کی صورت میں نظام کی افادیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
منصوبے کے تحت 256 ہائر سیکنڈری اسکولوں کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ یہ ادارے نسبتاً بڑے کیمپس اور زیادہ طلبہ رکھتے ہیں، جس کے باعث ان کی توانائی ضروریات بھی پرائمری سطح کے اسکولوں سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ہر اسکول کے لیے ایک جیسی صلاحیت کا نظام موزوں نہیں ہوگا، اس لیے چھت کی جگہ، موجودہ بجلی کے استعمال، مقامی موسم اور آلات کی ضروریات کے مطابق تکنیکی جائزہ ضروری ہوگا۔
سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن سے طویل مدت میں بجلی کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں، لیکن ابتدائی سرمایہ کاری، آلات کے معیار، تنصیب، دیکھ بھال اور انورٹر و بیٹری کی تبدیلی جیسے اخراجات کو بھی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔ اگر خریداری اور دیکھ بھال کا نظام مؤثر نہ ہو تو سولر پینلز نصب ہونے کے باوجود مطلوبہ مالی اور تعلیمی فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔
موجودہ اعلان منصوبے کی سمت اور ہدف کی نشاندہی کرتا ہے؛ تمام 256 اسکولوں میں نظام نصب اور فعال ہونے کی تصدیق الگ مرحلہ ہوگی۔ منصوبے کی حقیقی کامیابی کا جائزہ مکمل ہونے والے اسکولوں کی تعداد، نصب شدہ صلاحیت، بجلی کے بلوں میں کمی، نظام کی دستیابی اور تعلیمی سرگرمیوں پر اثر سے کیا جا سکے گا۔ پنجاب حکومت کا یہ اقدام سرکاری تعلیمی انفراسٹرکچر میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو وسیع کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
