ڈیرہ اسماعیل خان: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے درازندہ تحصیل کے امان میلہ چیک پوسٹ پر 26 ستمبر کو ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ڈان کے مطابق حملے میں 14 افراد جان سے گئے اور 35 زخمی ہوئے تھے۔ ایف آئی آر میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے میں حملہ آوروں کی شناخت نامعلوم رکھی گئی ہے، جبکہ ایف آئی آر میں یہ الزام درج کیا گیا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شیرانی دھڑے اور مشعل گروپ سے ہو سکتا ہے۔ یہ نسبت تفتیشی دستاویز میں درج ایک الزام ہے اور اسے کسی عدالت کی حتمی ذمہ داری کے تعین کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت، سہولت کاری اور دونوں واقعات کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکے۔

ایف آئی آر کے مطابق بارود سے بھری ایک گاڑی نے امان میلہ میں پولیس، کسٹمز اور ایکسائز کے مشترکہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے بعد فائرنگ بھی رپورٹ ہوئی، جو پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی کے بعد رک گئی۔ دھماکے سے چیک پوسٹ کا بڑا حصہ تباہ ہوا اور ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو نکالا۔

دستیاب رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر میں متاثرہ پولیس، کسٹمز، وائلڈ لائف اہلکاروں اور مقامی شہریوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اسی روز ڈی آئی خان ژوب روڈ پر سردگار کے قریب ایک الگ فائرنگ کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں نے ایک ریسکیو 1122 ایمبولینس پر فائرنگ کی جو ایک میت منتقل کر رہی تھی۔ اس فائرنگ میں ریسکیو اہلکار محمد شریف جان سے گئے جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔

پولیس نے ابتدائی طور پر امان میلہ حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا، تاہم ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی عمل سے ہوگا۔ ایف آئی آر کا اندراج فوجداری کارروائی کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اس میں درج الزامات کو ثبوتوں، فرانزک مواد، ممکنہ گرفتاریوں اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد سے جانچا جائے گا۔

درازندہ اور ڈی آئی خان کے سرحدی و رابطہ علاقوں میں سکیورٹی ادارے ماضی میں بھی شدت پسند سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ موجودہ مقدمے میں تفتیش کا اہم پہلو یہ ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی، استعمال ہونے والی گاڑی اور بعد کی فائرنگ کے واقعات کے درمیان کیا تعلق تھا۔ حکام نے ابھی کسی مخصوص ملزم کی گرفتاری یا فردِ جرم کی حتمی تفصیل جاری نہیں کی۔