کوپن ہیگن: ڈنمارک کے شہر روزکلڈے میں ایک کھیل کے میدان کے نیچے 13ویں صدی کی خانقاہ کے محفوظ آثار کا سراغ ملا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق یہ مقام سینٹ کلئیرز موناسٹری سے تعلق رکھتا ہے، جو 1256 میں قائم کی گئی تھی اور بعد میں منہدم ہوگئی تھی۔

ماہرین آثارِ قدیمہ نے زمین کھودنے کے بجائے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار استعمال کیا۔ اس ٹیکنالوجی سے زمین کے اندر موجود ساختوں کی واپسی لہروں کا نقشہ بنایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکین میں سطح سے تقریباً ایک میٹر نیچے خانقاہ کے وسیع کمپلیکس کے نشانات سامنے آئے، جس سے ایک طویل عرصے سے گم شدہ عمارت کی ترتیب دوبارہ سمجھنے کا موقع ملا ہے۔

ریڈار تصاویر میں مختلف کمرے، راہداریاں اور ستون دکھائی دیے۔ کمپلیکس کے جنوبی حصے میں ایک چرچ کی ساخت بھی شناخت کی گئی ہے۔ ماہرین نے ان اسکینز کو اسکینڈینیویا کے کسی خانقاہی مقام پر ریڈار سے حاصل ہونے والی واضح ترین تصاویر میں شمار کیا ہے۔ یہ دعویٰ رپورٹ میں ماہرین سے منسوب ہے اور مکمل تحقیق کی اشاعت یا آزاد تقابلی جائزہ خبر میں شامل نہیں۔

دریافت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ خانقاہ منہدم ہونے کے بعد یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے آثار ختم ہوچکے ہیں۔ کھیل کے میدان کے نیچے باقی بنیادیں ظاہر کرتی ہیں کہ سطح پر جدید استعمال کے باوجود زیرِ زمین پرانی عمارت کی ترتیب محفوظ رہ سکتی ہے۔ موجودہ نتیجہ ریڈار نقشوں پر مبنی ہے؛ خبر میں وسیع کھدائی، برآمد شدہ نوادرات یا انسانی باقیات ملنے کی اطلاع نہیں۔

اگلے سائنسی مراحل میں ریڈار نقشوں کی مزید تشریح، تاریخی دستاویزات سے موازنہ اور محدود مقامات پر تصدیقی تحقیق شامل ہوسکتی ہے، لیکن رپورٹ کسی مکمل کھدائی یا عوامی افتتاح کے شیڈول کی تصدیق نہیں کرتی۔ اس وقت قابلِ تصدیق پیش رفت زیرِ زمین ڈھانچے کی غیر مداخلتی شناخت تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک